امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان شدید اختلافات اور تلخ گفتگو کی خبروں نے ایک بار پھر عالمی میڈیا میں توجہ حاصل کر لی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل اہمیت بیانات نہیں بلکہ عملی پالیسیوں کی ہوتی ہے اور اس حوالے سے امریکا کی اسرائیلی حمایت میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔
امریکی نشریاتی اداروں میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر نیتن یاہو سے سخت لہجے میں بات کی اور ان پر شدید برہمی کا اظہار کیا، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی امریکی صدور اور اسرائیلی قیادت کے درمیان کشیدگی کی ایسی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، مگر زمینی حقائق میں بہت کم تبدیلی دیکھی گئی۔








