ریاض: سعودی عرب میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک اہم تاریخی دریافت کرتے ہوئے مٹی کے ایک قدیم برتن سے سونے، چاندی اور قیمتی جواہرات سے مزین نایاب زیورات اور سکے برآمد کیے ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق یہ دریافت ریاض کے تاریخی علاقے دریہ میں ایک آثارِ قدیمہ کے مقام کے قریب کھدائی کے دوران سامنے آئی ہے، جسے ماہرین نے ’’دریہ خزانہ‘‘ کا نام دیا ہے۔ برآمد ہونے والی اشیاء میں عباسی دور سے تعلق رکھنے والے تقریباً 100 سونے کے سکے، متعدد چاندی کی اشیاء اور قیمتی جواہرات شامل ہیں۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ خزانہ ایک ہزار سال سے زائد پرانا ہے اور ممکنہ طور پر کسی حاجی نے مکہ مکرمہ کے سفر کے دوران اسے محفوظ رکھنے کے لیے زمین میں دفن کیا تھا۔ اس حوالے سے مزید تحقیق جاری ہے تاکہ اس کی اصل تاریخی حیثیت اور دور کا تعین کیا جا سکے۔
سعودی ہیریٹج کمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ دریافت دریہ میں جاری آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے چھٹے مرحلے کے دوران ہوئی،یہ مقام تاریخی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ بصرہ سے مکہ مکرمہ جانے والے قدیم حج راستے پر واقع ایک اہم پڑاؤ تھا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ علاقہ ماضی میں 743 سے 753 عیسوی کے دوران ایک بڑی آباد کاری کا مرکز رہا ہے، جہاں سے حجاج کرام گزرتے تھے اور قیام کرتے تھے۔
یہ دریافت سعودی عرب میں آثارِ قدیمہ کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے جو خطے کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔