اس شہر کا معاشی نظام چلانے کے لیے کاروباری افراد کو دکانیں اور تجارتی جگہیں لیز پر یا مستقل خریدنے کے لیے دی جائیں گی۔

ذرا تصور کیجیے کہ آپ صبح آنکھ کھولیں تو آپ کا گھر سمندر کے بیچوں بیچ ہو، شام تک آپ کسی اور ملک کے ساحل کے سامنے پہنچ چکے ہوں اور چند ماہ بعد وہی شہر دنیا کے کسی دوسرے حصے میں موجود ہو۔ یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ ”فریڈم شپ“ نامی ایک ایسے منصوبے کا تصور ہے جسے دنیا کا پہلا تیرتا ہوا شہر کہا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار ”دی ٹیلیگراف“ کے مطابق یہ مستقبل کا ایک ایسا تیرتا ہوا شہر ہوگا جس کی لمبائی تقریباً ایک میل ہوگی اور اس پر بیک وقت 80 ہزار افراد سوار ہو سکیں گے۔ یہ عظیم الجثہ بحری ڈھانچہ آج تک انسان کے بنائے گئے کسی بھی بحری جہاز سے کہیں بڑا ہوگا، جس پر جدید رہائشی مکانات، اسکول، اور اعلیٰ ترین طبی سہولیات سے لیس ہسپتال بھی موجود ہوں گے۔







