سڈنی: آسٹریلوی سائنس دانوں نے قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں پھنسے افراد تک ادویات پہنچانے کے لیے کائیبورگ کاکروچ تیار کرلیے ہیں، جنہیں مستقبل میں امدادی کارروائیوں کے دوران استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔
محققین کے مطابق خصوصی کیمروں اور انجیکشن آلات سے لیس ان کاکروچز کو ’’پیرا بورگز‘‘ (Paraborgs) کا نام دیا گیا ہے۔ ان کاکروچز کے اعصابی نظام میں الیکٹروڈز نصب کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے انہیں دور سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کائیبورگ کاکروچز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ ایسے تنگ اور دشوار گزار راستوں سے گزر سکتے ہیں جہاں عام امدادی روبوٹس یا انسانوں کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی صلاحیت انہیں ملبے تلے پھنسے افراد تک ادویات یا دیگر ضروری سامان پہنچانے کے لیے مفید بنا سکتی ہے۔
محققین کی جانب سے کیے گئے تجربات میں کائیبورگ کاکروچز کے ذریعے دوا مطلوبہ مقام تک پہنچانے کی مجموعی کامیابی کی شرح 72 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ قریبی فاصلے سے دوا پہنچانے میں کامیابی کی شرح 95 فیصد تک رہی، یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مراحل میں ہے تاہم مستقبل میں اسے زلزلوں، عمارتیں گرنے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان کائیبورگ کاکروچز کو ایسے مقامات پر بھی بھیجا جاسکتا ہے جہاں ملبے، تنگ راستوں یا دیگر رکاوٹوں کے باعث امدادی ٹیموں کے لیے فوری طور پر پہنچنا ممکن نہ ہو۔ انہیں سانپ کے کاٹنے یا دیگر طبی ہنگامی حالات میں ابتدائی طور پر ضروری دوا متاثرہ شخص تک پہنچانے کے لیے بھی استعمال کرنے کا امکان ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق حیاتیاتی جانداروں اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کرکے تیار کیے جانے والے ایسے ’’بائیو ہائبرڈ‘‘ نظام مستقبل میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں،بڑے پیمانے پر استعمال سے قبل ان کی حفاظت، قابل اعتماد کارکردگی اور انسانی امدادی کارروائیوں کے ساتھ ہم آہنگی سمیت مختلف پہلوؤں پر مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہوگی۔