ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ’ایس آئی آر‘ کو لے کر جاری تنازعہ کے درمیان کانگریس نے جمعہ کو ملک بھر میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔
دہلی، چنڈی گڑھ، جموں و کشمیر، لکھنؤ، کولکاتا اور دہرادون سمیت کئی مقامات پر کانگریس کارکنان و لیڈران سڑکوں پر اترے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ دہلی میں بھی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور کانگریس کے احتجاج کے پیش نظر پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔
آج جموں و کشمیر اسمبلی میں بھی کانگریس کے اراکین اسمبلی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نعرے بازی کی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس اراکین اسمبلی نظام الدین بھٹ، عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد نے احتجاج کیا۔
انہوں نے ’ووٹ بچاؤ، جمہوریت بچاؤ‘ اور ’منصفانہ انتخابات کے بغیر جمہوریت نہیں‘ جیسے نعرے لکھے ہوئے بینر دکھائے۔
دراصل کانگریس نے پہلے ہی اپنی ریاستی یونٹس کو ہدایت دے دی تھی کہ 25 ستمبر کو سڑکوں پر نکل کر چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کرنا ہے۔
اس کے پیش نظر مختلف ریاستوں میں کانگریس لیڈران و کارکنان سڑکوں پر دکھائی دے رہے ہیں۔ چنڈی گڑھ میں کانگریس کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے زوردار نعرے لگائے۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ اور مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا میں بھی کانگریس کارکنوں نے احتجاج درج کیا۔
اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون میں کانگریس رکن پارلیمنٹ کماری شیلجا کی قیادت میں کارکنوں نے احتجاج کیا اور گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ اٹھایا۔
پنجاب میں بھی ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے، ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ کانگریس کارکنان 25 ستمبر کو چنڈی گڑھ کے سیکٹر 17 واقع الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے احتجاج کا 2 مرحلوں پر مشتمل پروگرام پہلے ہی جاری کر دیا ہے۔ پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کے مطابق 25 ستمبر کو ریاستی کانگریس کمیٹیوں کو اپنے اپنے ریاستی الیکشن کمیشن کے دفاتر تک مارچ نکالنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے بعد 28 ستمبر کو تمام ضلعی کانگریس کمیٹیاں ضلع کلکٹریٹ تک اسی طرح کے مارچ نکالیں گی۔
کانگریس نے گیانیش کمار کی گرفتاری اور انہیں عہدے سے ہٹانے کے ساتھ ہی ان کی مدت کار میں لیے گئے فیصلوں اور ووٹر لسٹ میں کی گئی تبدیلیوں کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی نے کہا ہے کہ اس کی جانب سے احتجاجی مظاہرے مطالبات پورے ہونے تک جاری رہیں گے۔ مدھیہ پردیش میں بھی یوتھ کانگریس نے جمعرات کو بھوپال میں احتجاج کیا تھا۔ کارکنوں نے مدھیہ پردیش کے چیف الیکٹورل افسر کے دفتر کے باہر نعرے بازی کی اور ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھائے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ اس احتجاج کی وجہ ایس آئی آر معاملے پر الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات سے متعلق ایک رپورٹ ہے۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق بعض فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراض درج کرایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں قانونی ووٹر رجسٹریشن فارم 6 میں تبدیلی، ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور ہٹانے کے عمل اور ووٹر لسٹ کے ڈاٹابیس پر مرکزی سطح سے کنٹرول جیسے معاملات شامل تھے۔