نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مہم کے تحت ووٹر لسٹ میں خامیوں کی وجہ سے نوٹس پانے والے ووٹرز کے لیے راحت کی خبر ہے۔
الیکشن آفس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ایس آئی آر نوٹس پانے والے 33.14 لاکھ لوگوں میں سے 94 فیصد سے زائد کیسز کی تصدیق کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور انہیں حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ باقی ماندہ تقریباً چھ فیصد کیسز پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، جس کے لیے انتظامیہ نے 30 نومبر کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔
ڈرافٹ لسٹ کا حساب کتاب
گذشتہ 31 اگست کو جاری کی گئی خصوصی نظرثانی کی ڈرافٹ لسٹ میں ان ووٹرز کے نام شامل تو تھے، لیکن اندراج میں ‘منطقی خامیوں’ یا سال 2002 کی ایس آئی آر سے میچ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں الگ سے نوٹس بھیجے گئے تھے۔ حکام کے مطابق، ایس آئی آر عمل کے آغاز میں یعنی 30 جون کو دہلی میں کل 1.45 کروڑ ووٹرز رجسٹرڈ تھے۔ جب 31 اگست کو دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے ڈرافٹ ایس آئی آر لسٹ جاری کی، تو اس میں 97.5 لاکھ ووٹرز رہ گئے، جب کہ کل 47.6 لاکھ ووٹرز (یعنی ہر تین میں سے ایک) کے نام غیر حاضر، منتقل شدہ، وفات پا چکے یا ڈوپلیکیٹ (ایک سے زائد اندراج) کے زمرے کے تحت ہٹا دیے گئے تھے۔ چیف الیکٹورل آفیسر اشوک کمار کے مطابق، اس کے بعد ڈرافٹ لسٹ میں شامل 97.5 لاکھ میں سے 33.1 لاکھ لوگوں کو نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ ان میں سے 13.8 لاکھ لوگ سال 2002 کے ایس آئی آر سے میچ نہیں ہوئے تھے، جب کہ 19.3 لاکھ لوگوں کے کیسز میں دیگر منطقی خامیاں پائی گئی تھیں۔
چھبیس اکتوبر تک 31.2 لاکھ کیسز کا تصفیہ
الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ جانکاری کے مطابق، 26 اکتوبر تک کل 31.2 لاکھ (تقریباً 94 فیصد) نوٹسز کا تصفیہ کیا جا چکا ہے اور انہیں حتمی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ منطقی خامیوں (19.3 لاکھ) کے زمرے والے تقریباً تمام معاملات میں نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق ای آر اوز اور اے ای آر اوز نے دستاویزات جمع کر لیے ہیں اور تقریباً 19 لاکھ (98 فیصد) کیسز کو حل کر کے انہیں حتمی فہرست میں جگہ دینے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے واضح کیا کہ 30 نومبر تک تمام زیر التوا نوٹسز کو مکمل طور پر نمٹا دیا جائے گا۔
فارم-6 اور سیاسی شخصیات کو نوٹس
ڈرافٹ رول کی اشاعت کے بعد حذف کیے گئے 47 لاکھ ووٹرز میں سے صرف 2.7 لاکھ لوگوں نے فارم-6 بھرا ہے، جو ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کا واحد طریقہ ہے۔ ان میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والے اور وہ لوگ شامل ہیں جن کے نام ڈرافٹ رول سے چھوٹے ہوئے 46.7 لاکھ لوگوں میں آتے ہیں۔ اس پورے عمل کے دوران کئی سیاسی شخصیات، وی وی آئی پیز اور عام شہری بھی نوٹس کی زد میں آئے تھے۔ ان میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور بی جے پی کے سینیئر لیڈر لال کرشن اڈوانی جیسے بڑے نام بھی شامل رہے، جنہیں لے کر انتظامی سطح پر کافی بحث گرم رہی۔ تاہم، الیکشن کمیشن اور بوتھ لیول افسران کی سرگرمی کی وجہ سے اب زیادہ تر معاملات کا بروقت حل ہوتا نظر آ رہا ہے، جس سے ووٹرز کی تشویش کم ہوئی ہے۔
حتمی ووٹر لسٹ کا اعلان چار دسمبر کو
الیکشن کمیشن کے آئندہ ورک پلان کے تحت، دہلی میں ایس آئی آر کا یہ پورا عمل مکمل ہونے کے بعد چار دسمبر کو حتمی ووٹر لسٹ شائع کرنے کی تاریخ طے کی گئی ہے۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق اگلے اقدامات کیے جائیں گے۔