جنوبی کوریا نے اسٹریٹجک اعتبار سے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کے آس پاس سمندری سلامتی کے حوالے سے ایک بڑا قدم اٹھانے کی تیاری کی ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ وہ اس علاقے میں سمندری گشتی طیارے (میری ٹائم پیٹرول ایئرکرافٹ) تعینات کرے گا۔
اس کے ساتھ ہی دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ماہر ٹیم یعنی ایکسپلوسیو آرڈیننس ڈسپوزل (ای او ڈی) ٹیم بھی بھیجی جائے گی۔ یہ تعیناتی ایک خصوصی مشن کے تحت کی جائے گی، جس کا مقصد اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق سمندری گشتی طیاروں اور بم ناکارہ بنانے کے ماہرین کو آبنائے ہرمز کے آس پاس کے سمندری علاقے میں تعینات کیا جائے گا۔ اس مشن کے ذریعے سمندری راستے کی حفاظت یقینی بنانے میں تعاون کیا جائے گا۔
سمندری گشتی طیارے علاقے میں نگرانی اور ممکنہ خطرات پر نظر رکھنے میں مدد کریں گے، جبکہ دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیم سمندر میں موجود دھماکہ خیز خطرات سے نمٹنے کے لیے ماہرین کی خدمات فراہم کرے گی۔
قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے۔ بین الاقوامی توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارت کے لحاظ سے اس آبی گزرگاہ کو انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔
ایسے میں اس راستے پر کسی بھی طرح کی حفاظتی رکاوٹ عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ جنوبی کوریا کا یہ مشن اسی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل سمندری راستے کو کھلا رکھنے کی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہے۔