ایران کی جانب سے اپنے مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس کے دعوؤں نے واشنگٹن میں تشویش پیدا کر دی۔
ان مبینہ خطرات کی ساکھ اور اسرائیل کے محرکات کے حوالے سے بعض امریکی حکام کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے گزشتہ روز رپورٹ کیا کہ بعض امریکی حکام ان دعوؤں کو اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی حکومت کی ایسی کوشش کا حصہ سمجھتے ہیں، جس کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر قائل کرنا ہے۔
کیا ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہے ایک ارب ڈالر کا سوال؟
دوسری جانب بعض دیگر امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ تہران کی جانب سے امریکی مفادات کو ممکنہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے بڑھتے خدشات کے پیشِ نظر ان انتباہات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
یہ خدشات خلیجی ممالک کے ساتھ بھی شیئر کیے گئے ہیں، تاہم ایک علاقائی عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اسرائیلی حکام نے ایسے جائزے پیش کیے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو قابلِ استعمال بنانے پر کام کر رہا ہے، لیکن ان دعوؤں کے حق میں کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی حکومتوں نے بھی ان دعوؤں کو قابلِ یقین نہیں سمجھا۔
بعض امریکی حکام کے لیے ان الزامات نے 2002ء میں عراق کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کے متنازع اور غلط جائزوں کی یاد تازہ کر دی ہے، انہی دعوؤں کو 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے طویل عرصے سے ایران کی کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیتوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم امریکی حکام کے درمیان اب بھی اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا تہران ایسے ہتھیار مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا وہ کبھی انہیں استعمال کرنے کا فیصلہ بھی کرے گا۔
نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ایران کیخلاف جوہری حملے پر غور کر سکتے ہیں: ٹکر کارلسن کا دعویٰ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کابینہ کے بعض ارکان اقتصادی دباؤ کی مہم کو مؤثر ہونے کا موقع دینے کے لیے فوجی کارروائی مؤخر کرنے کے حامی ہیں، جبکہ بعض دیگر کا خیال ہے کہ نئے فوجی حملوں کے بغیر ایرانی حکومت کا خاتمہ نہیں ہو گا۔
ادھر ایران متعدد بار کیمیائی ہتھیار رکھنے کی تردید کر چکا ہے اور ماضی میں ایسے الزامات کو اسرائیل کی نفسیاتی جنگی مہم کا حصہ قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق انٹیلی جنس سے متعلق یہ اختلاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران ممکنہ طور پر دوبارہ شروع ہونے والی جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی راستوں پر غور کر رہے ہیں، جبکہ امریکی فوج ٹرمپ کی منظوری سے مشروط بدھ کے روز سے ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی تیاری کے سلسلے میں خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔