مغربی بنگال کی سیاست میں ایک غیر معمولی آئینی بحران گہرا ہو گیا ہے۔ ایک طرف، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج کو “سازش” قرار دیتے ہوئے عہدہ چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا (EC) نے نئی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
مغربی بنگال کی سیاست میں ایک غیر معمولی آئینی بحران گہرا ہو گیا ہے۔ ایک طرف، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج کو “سازش” قرار دیتے ہوئے عہدہ چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا (EC) نے نئی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ قدم ریاست میں اگلی حکومت کی تشکیل کے لیے آئینی راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن مغربی بنگال کے گورنر کو بھیج دیا گیا ہے، اس طرح انتخابی عمل کو باضابطہ طور پر ختم کرکے ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف ہو جائے گا۔