ٹرمپ کے ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارے کے مبینہ طور پر خطرناک حد تک قریب آنے کے واقعے کی تحقیقات شروع
امریکی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ استعمال صدارتی ہیلی کاپٹر میرین ون (Marine One) اور ایک مسافر بردار طیارے کے درمیان مبینہ طور پر محفوظ فاصلہ برقرار نہ رہنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کے دوران صدر ٹرمپ کسی بھی قسم کے خطرے سے دوچار نہیں تھے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز واشنگٹن کی فضائی حدود میں فضائی ٹریفک کنٹرول سے ہونے والی مبہم مواصلات کے باعث میرین ون اور ایک تجارتی مسافر طیارہ ایک دوسرے سے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر آ گئے۔
امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) نے تصدیق کی ہے کہ وہ 4 اگست کو رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ (DCA) سے روانہ ہونے والے ایک کمرشل طیارے اور میرین ون کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار نہ رہنے کے واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کُش دیسائی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرین ون دنیا کے بہترین پائلٹس اڑاتے ہیں اور کسی بھی لمحے صدر کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔
برطانیہ سے واپسی پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہیلی کاپٹر میں فنی خرابی، ہنگامی لینڈنگ
امریکی فضائی ریگولیٹری ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے مطابق واقعے کے دوران ایئر ٹریفک کنٹرولر مسلسل میرین ون اور کمرشل طیارے دونوں کے پائلٹس سے رابطے میں تھا۔
ایف اے اے نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر کبھی بھی خطرے میں نہیں تھے، ہم واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ضرورت پڑنے پر مناسب اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایسے حالات میں حفاظتی اصولوں کے تحت دونوں طیاروں کے درمیان کم از کم ڈیڑھ میل افقی اور 500 فٹ عمودی فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 2:30 بجے پیش آیا، جب امریکن ایئرلائنز کی ذیلی کمپنی انوائے ایئر (Envoy Air) کا ایک ایمبریئر E-170 مسافر طیارہ واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔
اسی دوران میرین ون اینڈریوز ایئر فورس بیس جا رہا تھا، جہاں سے صدر ٹرمپ نے اپنا صدارتی طیارہ لے کر کیلیفورنیا روانہ ہونا تھا۔
واقعے پر نہ تو امریکن ایئرلائنز اور نہ ہی امریکی میرین کور نے فوری طور پر کوئی تبصرہ کیا، جو میرین ون ہیلی کاپٹر چلاتی ہے۔
واضح رہے کہ جنوری 2025 میں واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک مسافر بردار طیارے اور امریکی فوج کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم میں 67 افراد ہلاک ہونے کے بعد ایف اے اے نے اس علاقے میں فضائی تحفظ کے قواعد مزید سخت کر دیے ہیں۔