تل ابیب: ایرانی حملوں کے خوف کے باعث اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو غیر معمولی اور خفیہ انتظامات کے تحت امریکا روانہ ہوگئے، جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کریں گے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کی واشنگٹن روانگی معمول کے سرکاری طریقہ کار سے ہٹ کر کی گئی اور اس دوران سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے،ایران سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر نیتن یاہو نے معمول کے مطابق بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روانگی اختیار نہیں کی بلکہ خصوصی طیارے کے ذریعے نواتم ائیر بیس سے واشنگٹن کے لیے روانہ ہوئے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے نہ تو سفر کے وقت کا پیشگی اعلان کیا اور نہ ہی اس غیر معمولی انتظام سے متعلق کوئی باضابطہ وضاحت جاری کی۔
اسرائیلی میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نیتن یاہو کے سفر سے متعلق معلومات کو محدود رکھا گیا تاکہ ممکنہ سکیورٹی خطرات سے بچا جا سکے، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ حملوں کے خدشات کے باعث اسرائیلی حکام نے وزیراعظم کی نقل و حرکت اور سرکاری سرگرمیوں کے حوالے سے اضافی احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اتوار کو اسرائیلی کابینہ کا اجلاس بھی وزیراعظم کے دفتر میں منعقد نہیں کیا گیا بلکہ اسے زیر زمین واقع ایک خفیہ اور محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اجلاس کے مقام سے متعلق تفصیلات کو بھی عوام اور میڈیا سے پوشیدہ رکھا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس مرتبہ اسرائیلی حکام نے نیتن یاہو کے ہمراہ سرکاری طیارے میں اسرائیلی سفارتی امور اور میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو سفر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔ اس فیصلے کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی گئی، اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بھی سخت سکیورٹی انتظامات اور سفر کی معلومات کو محدود رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
امریکا روانگی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران خطے کو درپیش تمام اہم مسائل پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی، ایران کا معاملہ مذاکرات میں سرفہرست ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ان کا واضح مقصد اسرائیل کی سلامتی اور طاقت کو مزید مستحکم کرنا اور اسرائیل کے اطراف امن کے دائرے کو وسیع کرنا ہے،ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال، سکیورٹی خدشات اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔