لکھنؤ: اتر پردیش میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے مکمل ہونے کے بعد ووٹرز کی تعداد میں 84 لاکھ سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ریاست میں مجموعی ووٹرز کی تعداد بڑھ کر 13 کروڑ 39 لاکھ 84 ہزار 792 ہو گئی ہے۔
ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نو دیپ رِنوا نے لوک بھون میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ عمل 27 اکتوبر 2025 سے 10 اپریل 2026 تک جاری رہا، جس کے دوران ریاست کے تمام 75 اضلاع، 403 اسمبلی حلقوں اور پولنگ اسٹیشنز کا احاطہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 166 روزہ اس مہم میں 75 ضلع انتخابی افسران، 403 الیکٹورل رجسٹریشن افسران، 12,758 اسسٹنٹ افسران، 18,026 سپروائزرز اور 1,77,516 بوتھ لیول افسران نے حصہ لیا، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے 5,82,877 بوتھ لیول ایجنٹس اور لاکھوں ووٹرز نے بھی تعاون کیا۔
6 جنوری کو جاری کردہ ابتدائی فہرست کے مطابق ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 55 لاکھ 56 ہزار 25 تھی، جس میں 6.88 کروڑ مرد، 5.67 کروڑ خواتین اور 4,119 خواجہ سرا ووٹر شامل تھے۔
18 سے 19 سال کی عمر کے ووٹرز کی تعداد 3,33,981 تھی، جبکہ صنفی تناسب 824 خواتین فی 1000 مرد تھا۔
حتمی فہرست کے مطابق مرد ووٹرز کی تعداد 7,30,71,071 (تقریباً 54 فیصد)، خواتین 6,09,09,525 (45.46 فیصد) اور تیسری جنس کے ووٹرز 4,206 ہیں۔
18-19 سال کے ووٹرز کی تعداد بڑھ کر 17,63,360 ہو گئی ہے، جو کل ووٹرز کا 1.32 فیصد ہے، جبکہ صنفی تناسب بھی بہتر ہو کر 834 خواتین فی 1000 مرد ہو گیا ہے۔
اضلاع میں پریاگ راج میں سب سے زیادہ 3,29,421 ووٹرز کا اضافہ ہوا، اس کے بعد لکھنؤ (2,85,961)، بریلی (2.57 لاکھ سے زائد)، غازی آباد (2,43,666) اور جونپور (2,37,590) شامل ہیں۔
ریاستی انتخابی افسر کے مطابق اس عمل کے دوران 1.04 کروڑ ووٹرز کو “نان میپڈ” قرار دیا گیا، جبکہ 2.22 کروڑ کیسز میں منطقی خامیاں سامنے آئیں۔ ان معاملات میں نوٹس جاری کیے گئے اور 27 مارچ تک سماعت مکمل کی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ووٹر کا نام بغیر قانونی عمل کے حذف نہیں کیا گیا۔ اگر کسی کا نام حتمی فہرست میں شامل نہیں تو وہ یا تو فارم-6 کے ذریعے تبدیلی یا متعلقہ افسر کے فیصلے کا نتیجہ ہے۔