ٹوکیو: جاپان کے ساحلی علاقوں میں ان دنوں ایک نایاب اور دلکش قدرتی منظر سیاحوں اور فوٹوگرافروں کی خصوصی توجہ حاصل کر رہا ہے، جہاں فڈلر کیکڑے اپنے مخصوص انداز میں سالانہ ’’رقص‘‘ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جزر و مد کے دوران ساحل پر نمودار ہونے والے یہ ننھے کیکڑے بڑی تعداد میں اپنے بلوں سے باہر نکلتے ہیں اور اجتماعی انداز میں پنجے ہلا کر عجیب و دلچسپ حرکات کرتے ہیں، جسے دیکھنے کے لیے دور دور سے لوگ ساحلوں کا رخ کر رہے ہیں۔
ماہرین حیاتیات کے مطابق فڈلر کیکڑوں کی یہ سرگرمی ہر سال گرمیوں کے آغاز کے قریب زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔ ان کا افزائشی موسم مئی سے اگست تک جاری رہتا ہے اور اسی عرصے میں یہ کیکڑے سب سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔
ان کی جسامت بہت چھوٹی ہوتی ہے اور اکثر کیکڑوں کے خول کی چوڑائی آدھے انچ سے بھی کم ہوتی ہے، لیکن ان کی اجتماعی حرکتیں ایک دلکش منظر پیدا کرتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نر فڈلر کیکڑے اپنے بڑے پنجے بار بار اوپر نیچے کرتے ہیں، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی مخصوص دھن پر رقص کر رہے ہوں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس رویے کی اصل وجہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوسکی، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مادہ کیکڑوں کو متوجہ کرنے یا اپنے حریفوں کو خوفزدہ کرنے کا قدرتی طریقہ ہوسکتا ہے۔
جاپان کے ساحلی علاقوں میں اس منفرد منظر کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کئی فوٹوگرافر اور جنگلی حیات کے شوقین افراد ان ننھے جانداروں کی حرکات کو کیمرے میں محفوظ کرنے کے لیے خصوصی طور پر ان مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق اس قدرتی سرگرمی نے ساحلی سیاحت کو بھی فروغ دیا ہے۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ فڈلر کیکڑے ساحلی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ ریت کو نرم رکھنے اور نامیاتی مادوں کی صفائی میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کے قدرتی مظاہر انسانوں کو ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت بھی یاد دلاتے ہیں۔