ایران عراق سرحد پر واقع شلمچھ بارڈر کراسنگ کے مسافر ٹرمینل کے قریب امریکہ کی طرف سے میزائل حملے میں دو شیعہ مسلمان شہید اور 11 زخمی ہو گئے۔
یہ حملہ 23 جولائی 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران مسلسل 12ویں رات امریکی فوج کی طرف سے شروع کیے گئے فضائی حملوں کے سلسلے کے ایک حصے کے طور پر ہوا۔ **اہم تفصیلات اور اثرات:** **زائرین کو نشانہ بنانا:** یہ حملہ اس وقت ہوا جب شیعہ زائرین اربعین کی تقریب میں شرکت کے لیے عراق کے مقدس شہر کربلا کی طرف روانہ ہو رہے تھے۔ اس بارڈر کراسنگ کو روزانہ ہزاروں عقیدت مند استعمال کرتے ہیں۔
**حملے کا مقام:** بم دھماکے میں خاص طور پر شلامچی بین الاقوامی سرحدی گزرگاہ کے پاس مسافر ٹرمینل کے قریب کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا، جو ایران اور جنوبی عراق کو ملاتا ہے۔ **ٹرمپ کا انتباہ اور تناؤ:** امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایران یا اس کے اتحادیوں کی طرف سے بحری جہازوں پر کسی بھی حملے کے جواب میں امریکہ ایرانی انفراسٹرکچر (جیسے پل یا پاور پلانٹس) کو تباہ کر دے گا۔
**بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی:** شلامچے کے علاوہ، امریکی فضائیہ نے بوشہر، اہواز اور سرک سمیت کئی ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے جواب میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں (IRGC) نے کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے شروع کیے ہیں۔