پولینڈ میں پولیس نے 23 سالہ نوجوان کو مبینہ طور پر جعلی پیزا آرڈرز کے ذریعے شہریوں کو ہراساں کرنے، ان کی شناخت کا غلط استعمال کرنے اور متعدد ریسٹورنٹس کو مالی نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ملزم نے ملک کے مختلف شہروں میں موجود متعدد پتوں پر سینکڑوں پیزا آرڈرز کیے۔ ان آرڈرز کی سب سے غیر معمولی بات یہ تھی کہ انہیں ایسے افراد کے نام سے بک کرایا جاتا تھا جنہیں نہ تو آرڈر کے بارے میں علم ہوتا تھا اور نہ ہی انہوں نے کسی کھانے کا آرڈر دیا تھا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق تحقیقات کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزم صرف جعلی نام استعمال کرکے ریسٹورنٹس کو گمراہ نہیں کرتا تھا بلکہ بعض آرڈرز میں متعلقہ افراد کے بارے میں ایسی ذاتی معلومات بھی درج کی جاتی تھیں جن تک عام طور پر صرف متاثرہ شخص، اس کے قریبی دوستوں یا خاندان کے افراد کی رسائی ہوسکتی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ بعض جعلی آرڈرز کے ساتھ دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے گئے۔ ان میں کم عمر بچے کو اغوا کرنے، متاثرہ افراد کی کام کی جگہوں کو آگ لگانے اور جان بوجھ کر سڑک حادثات کروانے جیسی سنگین دھمکیاں شامل تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے متاثرہ افراد کے لیے صورتحال کو محض جعلی کھانے کے آرڈر تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ متعدد افراد خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئے۔ ذاتی معلومات کے استعمال اور دھمکی آمیز پیغامات نے متاثرین میں یہ خدشہ پیدا کیا کہ کوئی شخص ان کی ذاتی زندگی اور معمولات سے غیر معمولی حد تک واقف ہے۔
پولیس تحقیقات کے مطابق جعلی پیزا آرڈرز کا سب سے زیادہ نشانہ شچیتسن شہر کے پتے بنے، جہاں بڑی تعداد میں آرڈرز مختلف افراد کے نام سے کیے گئے۔ تاہم معاملہ صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہا اور وُروتسواف، کراکوف اور وارسا سمیت پولینڈ کے دیگر بڑے شہروں میں بھی متعدد پتوں پر جعلی آرڈرز پہنچائے گئے۔
جعلی آرڈرز کے باعث کئی ریسٹورنٹس کو بھی عملی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد کھانے پینے کے مراکز نے آرڈرز موصول ہونے کے بعد انہیں تیار کیا اور مقررہ پتوں پر پہنچانے کے لیے عملہ بھی روانہ کیا، تاہم وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ متعلقہ افراد نے ایسا کوئی آرڈر دیا ہی نہیں تھا۔
پولیس کے مطابق ان جعلی آرڈرز کی تیاری اور ترسیل پر ریسٹورنٹس کو کھانے کی اشیا، عملے کے وقت اور ترسیل کے اخراجات کی صورت میں خاصا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ بعض ریسٹورنٹس نے تکنیکی وجوہات یا دیگر رکاوٹوں کے باعث آرڈرز مکمل ہونے سے پہلے ہی مسترد کردیے۔
پولینڈ کے متعلقہ ادارے نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ملزم نے کتنے افراد کو نشانہ بنایا، ذاتی معلومات کہاں سے حاصل کیں اور جعلی آرڈرز کے ذریعے مجموعی طور پر کتنا مالی نقصان پہنچایا گیا۔
پولیس کی کارروائی کے بعد اب معاملے کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے، جبکہ ملزم کے خلاف شناخت کے غلط استعمال، شہریوں کو ہراساں کرنے اور جعلی آرڈرز کے ذریعے مالی نقصان پہنچانے سے متعلق الزامات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔