روبیو نے اس بات پر گفتگو کرنے سے گریز کیا کہ ٹرمپ کے پاس کون سے عسکری آپشنز (اختیارات) موجود ہیں، لیکن اس بات کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب امریکہ کا ایک اسٹریٹجک دفاعی شراکت دار ہے۔
نیویارک: خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مملکت پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی وعدوں کی پاسداری کرے گا۔
جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ حوثیوں کے خلاف مزید کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں، تو روبیو نے کہا: “سعودی عرب کے ساتھ ہمارا ایک بہت مضبوط دفاعی معاہدہ ہے، اور ہم اس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو پورا کریں گے۔”
روبیو نے اس بات پر گفتگو کرنے سے گریز کیا کہ ٹرمپ کے پاس کون سے عسکری آپشنز موجود ہیں، لیکن اس بات کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب امریکہ کا ایک اسٹریٹجک دفاعی شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا: “امریکہ نے ان سے وعدے کر رکھے ہیں۔ ہم ان وعدوں کو پورا کریں گے۔ ہم ابھی بھی ان وعدوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ صدر کے پاس “بہت سے آپشنز موجود ہیں۔”
یہ بیانات حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے سلسلے کے بعد مملکت میں سکیورٹی خدشات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
سعودی عرب اور امریکہ نے نومبر 2025 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ واشنگٹن کے دوران ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان آٹھ دہائیوں پر محیط دفاعی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔
وائٹ ہاؤس نے اس وقت کہا تھا کہ اس معاہدے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں ڈیٹرنس (دشمن کو جارحیت سے باز رکھنے کی صلاحیت) کو مضبوط بنانا اور واشنگٹن اور ریاض کے درمیان عسکری تعاون کو گہرا کرنا ہے۔ ٹرمپ نے اس دورے کے دوران سعودی عرب کو ‘نیٹو (NATO) کا اہم غیر رکن اتحادی’ بھی قرار دیا تھا۔
روبیو نے کہا کہ واشنگٹن مملکت پر ہونے والے حالیہ حملوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور انہوں نے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیا۔
انہوں نے سعودی تیل کی پائپ لائن کی بحالی کا خیرمقدم کیا جسے اس ماہ کے اوائل میں حملوں کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا؛ انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی ڈھانچہ نہ صرف سعودی معیشت بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
روبیو نے ایران پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ ان گروہوں کی حمایت کر رہا ہے جو خطے بھر میں توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں ان تنظیموں کی سرگرم حمایت کرتی ہے جو بنیادی ڈھانچے، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عام شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حالیہ حملوں میں تہران کی حمایت یافتہ عراقی شیعہ ملیشیاؤں کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔