کوٹا: ہفتے کی صبح راجستھان کے ضلع کوٹا میں دہلی-ممبئی ایکسپریس وے پر پیش آنے والے ایک المناک سڑک حادثے میں آٹھ مسافر ہلاک اور 15 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
یہ واقعہ صبح تقریباً سات بجے ’سملیا‘ پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا، جب مدھیہ پردیش سے جے پور جانے والی ایک ’ٹریولر‘ گاڑی اچانک بے قابو ہو کر پل سے تقریباً 20 فٹ نیچے ایک نالے میں جا گری۔
سملیا پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) نند سنگھ نے بتایا کہ ایک ‘ٹریولر’ (منی بس) کراڈیا ٹول پلازہ سے گزر کر سلطان پور کی جانب جا رہی تھی۔
اسی دوران، تیز رفتار گاڑی کے ڈرائیور کو اچانک جھپکی آ گئی۔ تیز رفتاری کے باعث، گاڑی پر سے اس کا کنٹرول مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ گاڑی سڑک کے درمیان موجود مضبوط ڈیوائیڈر سے ٹکرائی، ایک پلیا کے بیچ سے نیچے گری اور سیدھی ایک نالے میں جا جا گریں۔
ٹکر اتنی شدید تھی کہ گاڑی کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، اور اس کے اندر موجود مسافر خوف کے مارے چیخنے چلانے لگے۔
حادثے کی آواز سن کر، آس پاس کے دیہاتی اور وہاں سے گزرنے والے لوگ مدد کے لیے دوڑ پڑے۔ اطلاع ملنے پر سملیا پولیس، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کی ریسکیو ٹیم اور 108 ایمبولینس سروس موقع پر پہنچ گئی۔
‘ٹریولر’ 20 فٹ گہرے نالے میں پھنس گئی تھی، جس کی وجہ سے مسافروں کو باہر نکالنا ایک مشکل کام بن گیا۔ پولیس اہلکاروں اور ریسکیو ٹیم نے مسافروں کو ایک ایک کر کے نالے سے بحفاظت باہر نکال لیا۔
سلطان پور کے بلاک چیف میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر راجیش سمر کے مطابق، اطلاع ملتے ہی بلاک سے چار ایمبولینسیں فوری طور پر جائے حادثہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔
انہوں نے تصدیق کی کہ اس حادثے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد کہرام مچ گیا، کیونکہ زیادہ تر مسافر، جن کی کل تعداد تقریباً 20 تھی اس وقت سو رہے تھے۔
تیز رفتار گاڑی اوپر سے گرنے کے بعد نالے کی دیوار سے ٹکرا کر وہیں پھنس گئی۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا نے فوری طور پر ایک کرین کا انتظام کیا تاکہ گاڑی کو نالے سے باہر نکالا جا سکے۔
اسپتال میں افراتفری مچ گئی؛ چار افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ چار دیگر، جو شدید زخمی تھے، اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں زندگی کی جنگ ہار گئے۔
زخمیوں میں سے کئی افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد، تمام زخمیوں کو کوٹا میڈیکل کالج کے ‘نیو اسپتال’ اور ایم بی ایس اسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔
مسافر بیتول سے کھاٹو شیام جا رہے تھے: گاڑی میں سوار زیادہ تر افراد مدھیہ پردیش کے ضلع بیتول کے رہائشی تھے۔ وہ جمعہ کی رات بیتول سے روانہ ہوئے تھے اور رینگس (ضلع سیکر) میں واقع کھاٹو شیام جی کی طرف جا رہے تھے۔ حادثے کے فوراً بعد، کوٹا دیہی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سجیت شنکر صورتحال کا جائزہ لینے اور واقعے کی تفصیلات اکٹھی کرنے کے لیے موقع پر پہنچ گئے۔
ادھر، سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے لکھا کہ کوٹا ضلع کے سملیا تھانہ علاقے میں پیش آنے والے منی بس حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں کی خبر انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی ہے۔ انہوں نے مرنے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔