اسرائیل کے اندر امریکی فیصلے پر شدید مایوسی اور تشویش پھیل گئی۔
جب رواں سال 28 فروری کو اسرائیلی اور امریکی جنگی طیاروں نے مل کر ایران پر بمباری کی، تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک دوسرے کے تاریخی فیصلوں کا جشن منایا تھا۔ نیتن یاہو نے اسرائیلی عوام کو یقین دلایا تھا کہ دونوں ممالک کا اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ لیکن اس واقعے کے تین ماہ بعد، جو مہم ایک مشترکہ فوجی کارروائی کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب امریکا کی قیادت میں ایک سفارتی عمل میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے جس میں نیتن یاہو خود کو بالکل الگ تھلگ پا رہے ہیں۔







