ماہرینِ فلکیات نے ایک دور دراز کہکشاں میں ستارے کی موت کے ابتدائی لمحے کا انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہے۔
سائنسی خبر رساں اداروں کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی دریافت اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ بعض ستارے پہلے سمجھے جانے والے طریقوں سے مختلف انداز میں بھی اپنے اختتام تک پہنچ سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس آئن اسٹائن پروب خلائی دوربین نے زمین سے تقریباً 50 کروڑ نوری سال دور واقع ایک کہکشاں سے مختصر مگر طاقتور ایکس رے شعاع ریکارڈ کی۔ اس غیر معمولی سگنل کو ای پی260321 اے کا نام دیا گیا، جس کے بعد دنیا بھر کے فلکیاتی مراکز نے فوری مشاہدات شروع کر دیے۔
2 آزاد تحقیقی ٹیموں نے ابتدائی تجزیے میں اس ایکس رے اخراج کو ’شاک بریک آؤٹ‘ قرار دیا۔ یہ مرحلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سپرنووا دھماکے کی صدمے کی لہر ستارے کی بیرونی سطح عبور کرتی ہے اور پہلی شدید روشنی خلا میں پھیلتی ہے۔
سائنس دانوں نے بتایا کہ اگرچہ شاک بریک آؤٹ تقریباً ہر سپرنووا میں متوقع ہوتا ہے، لیکن یہ صرف چند سیکنڈ برقرار رہتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا مشاہدہ انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس سے پہلے صرف ایک مرتبہ اس مظہر کی تصدیق ہو سکی تھی۔
بعد کی تحقیقات سے واضح ہوا کہ یہ ایک معروف قسم کا سپرنووا تھا، تاہم اس میں کئی غیر معمولی خصوصیات بھی سامنے آئیں۔ ریکارڈ کیا گیا شاک بریک آؤٹ اب تک دیکھا جانے والا سب سے مدھم تھا، حالانکہ دھماکے کی شدت معمول سے کم نہیں تھی۔
مزید یہ کہ اس سپرنووا سے گاما رے برسٹ بھی خارج نہیں ہوئی، جو عام طور پر اسی نوعیت کے دھماکوں کے ساتھ دیکھی جاتی ہے۔
ماہرین کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی مشاہدات ستاروں کے ارتقا اور ان کے آخری مراحل سے متعلق مستقبل کی تحقیق کے لیے نئی سمت متعین کر سکتے ہیں۔