تھائی لینڈ میں ہونے والی تازہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران ماہرین کے ہاتھ ایک ایسی دریافت لگی ہے جسے خطے کی قدیم تاریخ کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مغربی صوبہ فیچابوری میں واقع ڈون یائی تھونگ کے تاریخی مقام سے تقریباً 2 ہزار سال پرانی 2 سونے کی انگوٹھیاں ایک انسانی ڈھانچے کے ساتھ برآمد ہوئی ہیں، جن سے اس دور کے سماجی، ثقافتی اور تجارتی روابط پر نئی روشنی پڑنے کی توقع ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ نوادرات گزشتہ ہفتے جاری کھدائی کے دوران دریافت ہوئیں۔ ماہرین نے بتایا کہ دونوں انگوٹھیاں ایک ہی انسانی ڈھانچے کے قریب سے ملی ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق اسی شخص سے تھا۔
دریافت ہونے والی انگوٹھیوں میں سے ایک پر قدیم بھارتی رسم الخط برہمی میں عبارت کندہ ہے، جس نے ماہرین کی خصوصی توجہ حاصل کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پر “پوسارکھیتاسا” تحریر ہے، جس کا مفہوم “پشیا کے زیرِ حفاظت” بیان کیا گیا ہے۔ بھارتی علمِ نجوم میں پشیا کو نہایت سعد اور خوش بخت برج تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے اس عبارت کو مذہبی یا روحانی عقیدے سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری انگوٹھی سادہ سونے سے تیار کی گئی ہے اور یہ بھی اسی مقام پر انسانی باقیات کے ساتھ ملی۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا خیال ہے کہ ان زیورات کا مالک قدیم بھارتی تاجر برادری، یعنی ویشیا طبقے سے تعلق رکھتا تھا، جس سے اس زمانے میں برصغیر اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط کے امکانات مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
ڈون یائی تھونگ کا یہ تاریخی مقام رواں سال کے آغاز میں اس وقت ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا تھا، جب مقامی افراد کو چاول کے ایک کھیت میں کانسی سے بنے قدیم ڈھول کے ٹکڑے ملے۔ اس دریافت کے بعد متعلقہ اداروں نے علاقے میں باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی شروع کی، جس کے نتیجے میں اب یہ قیمتی نوادرات بھی سامنے آ گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مقام تھائی لینڈ کے آخری قبل از تاریخ دور، یعنی آہنی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ زمانہ تقریباً 1500 سے 2500 سال پہلے کا ہے، جب اس خطے میں انسانی آبادیاں موجود تھیں اور مختلف تہذیبوں کے درمیان تجارتی و ثقافتی تعلقات فروغ پا رہے تھے۔
آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی انگوٹھیوں اور ان پر موجود تحریروں کی مزید سائنسی جانچ سے نہ صرف اس دور کے رہن سہن اور عقائد کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوں گی بلکہ جنوب مشرقی ایشیا اور قدیم برصغیر کے درمیان قائم روابط کی تاریخ کو بھی بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔