دنیا کے اہم ترین سمندری راستے آبنائے ہرمز کے تحفظ اور جہاز رانی کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات میں پیدا ہونے والی تاخیر کے اسباب سامنے آ گئے ہیں۔
امریکی تحقیقی ادارے ’کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسپانسیبل اسٹیٹ کرافٹ‘ کی ماہر تریتا پارسی کے مطابق، تہران کے نقطہ نظر سے اس معاہدے کی حتمی منظوری میں تاخیر کی بنیادی وجہ آخری لمحات میں امریکا کی جانب سے پیش کیے جانے والے نئے مطالبات ہیں۔
تریتا پارسی نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کے دوران اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا حقیقت میں ان مذاکرات کی میز پر بالواسطہ طور پر خود موجود ہے، کیونکہ عمان صرف اپنی طرف سے ہی نہیں بلکہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی دیگر ریاستوں اور واشنگٹن کی جانب سے بھی بات چیت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آخری لمحات میں امریکا نے یا تو اپنے طے شدہ اہداف کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے یا پھر کچھ نئے مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں۔
امریکی رویے پر ایرانی ردِعمل کا ذکر کرتے ہوئے “ان کا کہنا تھا کہ ”اس کا وہی ردِعمل سامنے آیا جو ہم نے دیکھا، یعنی تہران نے یہ سخت اور جارحانہ مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں کہ کیا اقدامات کیے جائیں اور کس بنیاد پر امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے“۔
تاہم، ان تمام تحفظات کے باوجود تریتا پارسی کا ماننا ہے کہ یہ نئی پیش رفت اس اہم بحری راستے کے تحفظ کے لیے معاہدے کی حتمی منظوری میں کوئی بڑی یا مستقل رکاوٹ ثابت نہیں ہوگی۔
انہوں نے اپنے تجزیے میں مزید کہا کہ یہ مذاکرات کے مخصوص مراحل پر ظاہر ہونے والی ایک ڈرامائی اور روایتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، اور ضروری نہیں کہ یہ چیز معاہدے کی راہ میں اتنی بڑی رکاوٹ بنے جتنا کہ پہلی نظر میں محسوس ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان یہ باریکیاں اور تکنیکی مطالبات دراصل معاہدے سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔