نیتن یاہو نے امریکی صدر کی ناراضی مول لینا اپنے لیے کم نقصان دہ سودا سمجھا ہے۔
عام طور پر پیچیدہ اور حساس معاملات پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ فیصلوں کو ٹال دیتے ہیں اور اگر کوئی موقف اپنانا بھی پڑے تو اس میں تھوڑی بہت گنجائش اور ابہام برقرار رکھتے ہیں تاکہ بعد میں کسی مشکل صورتحال سے بچا جا سکے۔ لیکن اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے لیے پیش کردہ روڈ میپ کے معاملے پر انہوں نے بالکل مختلف اور سخت رویہ اپنایا ہے۔







