نیویارک: کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف عائد پابندیوں کے خلاف چار امریکی انسانی حقوق کی تنظیموں نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مقدمہ دائر کرنے والی تنظیموں میں ہیومن رائٹس واچ، امریکن فرینڈز سروس کمیٹی، سینٹر فار کانسٹی ٹیوشنل رائٹس اور اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔101 صفحات پر مشتمل درخواست میں تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی حکومت کا آئی سی سی کے ججوں، پراسیکیوٹرز اور عدالت سے تعاون کرنے والے دیگر افراد و اداروں کو نشانہ بنانا امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادیِ اظہار کی ضمانت سمیت دیگر قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیاں نہ صرف بنیادی آئینی حقوق کو متاثر کرتی ہیں بلکہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف تک رسائی میں بھی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے آئی سی سی اور اس سے وابستہ افراد کے ساتھ قانونی اور انسانی حقوق کے معاملات پر کام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کے اقدامات کا اثر بالخصوص ان متاثرین پر پڑ رہا ہے جو نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق امریکی حکومت نے بعد کے اقدامات میں آئی سی سی کے آٹھ ججوں، تین پراسیکیوٹرز، اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ماہر اور تین انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا۔جون 2025 میں امریکا نے آئی سی سی کے چار ججوں پر پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ بعد میں مزید ججوں اور عدالت سے منسلک افراد کو فہرست میں شامل کیا گیا۔ جبکہ اقوام متحدہ کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق سے متعلق خصوصی نمائندہ فرانچسکا البانیز بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ چکی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 فروری 2025 کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس کے تحت آئی سی سی کے ایسے حکام اور دیگر افراد کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیا گیا جو امریکی شہریوں یا امریکا کے اتحادیوں کے خلاف عدالت کی تحقیقات میں معاونت کر رہے ہوں۔