بیجنگ: چین نے خلائی تحقیق اور قابلِ دوبارہ استعمال راکٹوں کی ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے پہلی بار ایک نجی کمپنی کے راکٹ کو زمین کے مدار میں بھیجنے کے بعد کامیابی سے واپس زمین پر اتار لیا۔
چینی نجی کمپنی لینڈ اسپیس (LandSpace) نے اپنے زیوکیو-3 (ZQ-3) راکٹ کی آزمائشی پرواز کے دوران اسے زمین کے مدار تک پہنچایا، جہاں راکٹ نے اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد کامیابی سے زمین پر واپسی کی، یہ چین میں نجی شعبے کی جانب سے کسی راکٹ کی پہلی ایسی کامیاب آزمائش ہے جس میں راکٹ نے مدار میں جانے کے بعد واپس آکر باقاعدہ لینڈنگ کی۔
زیوکیو-3 کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے زمین پر واپسی کے بعد لینڈنگ کے لیے نصب خصوصی لینڈنگ لیگز کی مدد سے عمودی حالت میں کامیابی سے لینڈ کیا۔ اس طرح راکٹ محض زمین پر واپس آنے کے بجائے سیدھا کھڑا ہونے میں بھی کامیاب رہا، جسے قابلِ دوبارہ استعمال خلائی ٹیکنالوجی کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
لینڈ اسپیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ مشن کمپنی کے لیے ایک انتہائی اہم تکنیکی تجربہ تھا، جس کے ذریعے راکٹ کی ڈیزائن صلاحیت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونے کی جانچ کی گئی۔ کمپنی کے مطابق کامیاب فرسٹ اسٹیج ریکوری سے راکٹ کو مستقبل میں بار بار استعمال کرنے کی ٹیکنالوجی کی صلاحیت بھی ثابت ہوئی ہے۔
چین اس سے قبل بھی قابلِ دوبارہ استعمال راکٹ ٹیکنالوجی میں پیش رفت کا مظاہرہ کرچکا ہے۔ 10 جولائی کو چینی سرکاری ادارے چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن (CASC) کے لانگ مارچ-10 بی راکٹ نے بھی زمین پر واپسی اور لینڈنگ کا تجربہ کیا تھا۔
زیوکیو-3 کی کامیابی کو اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس نے واپسی کے بعد لینڈنگ لیگز کی مدد سے زمین پر عمودی انداز میں خود کو مستحکم کیا۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں راکٹ کے پہلے مرحلے کو دوبارہ استعمال کرنے کے عمل کو مزید قابلِ عمل بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
زیوکیو-3 کی ظاہری ساخت اور تکنیکی تصور کو امریکا کے اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے۔ فالکن 9 نے دسمبر 2015 میں پہلی مرتبہ مدار تک پہنچنے کے بعد اپنے بوسٹر کو کامیابی سے واپس زمین پر اتارا تھا، جس کے بعد قابلِ دوبارہ استعمال راکٹ ٹیکنالوجی نے خلائی صنعت میں نمایاں اہمیت حاصل کی۔
زیوکیو-3 اور فالکن 9 دونوں کے ری یوز ایبل بوسٹرز اور مجموعی جسامت ایک دوسرے سے کافی مشابہ ہیں جبکہ دونوں راکٹوں میں بوسٹر کی واپسی اور دوبارہ استعمال کی صلاحیت کو بنیادی مقصد بنایا گیا ہے۔
دونوں راکٹوں کے ایندھن میں نمایاں فرق ہے۔ فالکن 9 میں مائع آکسیجن کے ساتھ راکٹ گریڈ کیروسین استعمال ہوتی ہے جبکہ زیوکیو-3 میں مائع آکسیجن اور مائع میتھین کو بطور ایندھن استعمال کیا گیا ہے۔
زیوکیو-3 کو شمال مغربی چین کے ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس زون سے خلا میں روانہ کیا گیا۔ یہ اس راکٹ کی دوسری آزمائشی پرواز تھی۔
لانچ کے دوران راکٹ نے زمین کے مدار میں پہنچ کر سیٹلائٹ کو خلا میں چھوڑا، جس کے بعد اس کے پہلے مرحلے نے واپسی کا سفر شروع کیا اور کامیابی سے زمین پر لینڈ کرگیا۔
زیوکیو-3 کی کامیاب آزمائشی پرواز چین کے نجی خلائی شعبے کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ہے اور اس سے ملک کی جانب سے ری یوز ایبل راکٹ ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دینے کی کوششوں کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔