سیول: جنوبی کوریا میں ریکارڈ توڑ گرمی نے زرعی شعبے کو شدید متاثر کردیا، شدید درجہ حرارت کے باعث مختلف علاقوں میں فصلوں کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے جبکہ کسانوں کو کروڑوں وون کے مالی نقصان کا سامنا ہے۔
ملک کے شمال مشرقی صوبے گانگ وون میں شدید گرمی کے باعث آلو زمین سے نکالنے سے پہلے ہی نرم اور خراب ہوگئے جبکہ بڑی مقدار میں گوبھی بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں آکر تباہ ہوگئی۔
مقامی میڈیا کے مطابق یانگ گو کاؤنٹی کے ہائیان علاقے میں کسانوں نے ایسے کھیتوں سے آلو نکالے جو صرف ایک ہفتہ قبل تک بظاہر مکمل طور پر صحت مند تھے، زمین کھودنے کے بعد بڑی تعداد میں آلو نرم اور ناقابلِ استعمال حالت میں پائے گئے۔
کسانوں کے مطابق شدید گرمی کے باعث زمین کے اندر موجود آلو بھی معمول کے مطابق نشوونما نہیں پا سکے اور فصل کا بڑا حصہ خراب ہوگیا۔ صورتحال نے مقامی کاشتکاروں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
40چالیس برس سے کاشت کاری کرنے والے کسان لی سانگ ہیوک نے مقامی نشریاتی ادارے ایس بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں اس طرح کی صورتحال کبھی نہیں دیکھی، فصلوں کو پہنچنے والا نقصان کسی ایک یا دو کھیتوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر کاشتکار شدید گرمی سے متاثر ہوئے ہیں۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ رواں سال موسم کی غیر معمولی شدت نے فصلوں کی پیداوار اور معیار دونوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث ان کی محنت اور سرمایہ کاری ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
شدید گرمی سے گانگ وون کے قریبی علاقوں میں گوبھی کے بڑے رقبے پر مشتمل کھیت بھی تباہ ہوگئے۔ کسانوں نے بہتر قیمت ملنے کی امید میں فصل کی کٹائی مؤخر کردی تھی، تاہم درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث گوبھی کھیتوں میں ہی جھلس گئی۔صورتحال اس حد تک خراب ہوگئی کہ متاثرہ کسانوں کو تباہ شدہ گوبھی کھیتوں سے نکالنے کے بجائے اسے دوبارہ زمین میں ملا دینا پڑا۔
کاشتکاروں کے مطابق تباہ ہونے والی گوبھی کی مالیت کروڑوں وون تھی، جس سے زرعی شعبے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔جنوبی کوریا میں شدید گرمی کے باعث فصلوں کو پہنچنے والا نقصان موسمیاتی شدت کے زرعی پیداوار پر بڑھتے ہوئے اثرات کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جارہا ہے۔
جنوبی کوریا کے کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر شدید گرمی اور غیر معمولی موسمی حالات کا سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں مزید فصلیں متاثر ہونے اور زرعی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے۔