حملہ آور اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں، اگر ان صنعتی کنٹرولرز تک رسائی حاصل کر لی جائے تو اس کے نتیجے میں اہم صنعتی عمل متاثر ہو سکتے ہیں: امریکی ایجنسیز
امریکی حکومت کے کئی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ نامعلوم ہیکرز سیمنز کے تیار کردہ ایسے آلات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو پانی کی تنصیبات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو چلانے اور نگرانی کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق بدھ کو جاری ہونے والی سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری کے مطابق خطرہ سیمنز کے ایس۔7 سیریز کے پروگرام ایبل لاجک کنٹرولرز (پی ایل سیز) کو لاحق ہے۔ یہ آلات مختلف اہم شعبوں میں صنعتی مشینوں اور عمل کو خودکار طریقے سے چلانے اور کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان شعبوں میں مینوفیکچرنگ، توانائی، پانی اور گندے پانی کی تنصیبات، کیمیکل صنعت، خوراک اور زراعت شامل ہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی کئی ریاستوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران مقامی پانی کے نظام پر متعدد سائبر حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کو ان حملوں میں ایران سے تعلق رکھنے والے ہیکرز کے ممکنہ ملوث ہونے کا شبہ ہے، تاہم امریکی وفاقی حکام نے اب تک ان حملوں کو باضابطہ طور پر ایران سے منسوب نہیں کیا۔
امریکی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان صنعتی کنٹرولرز تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی جائے تو اس کے نتیجے میں اہم صنعتی عمل متاثر ہو سکتے ہیں۔ بعض حالات میں اس سے حفاظتی واقعات، کام میں تعطل، آلات کو نقصان، حساس معلومات کے افشا ہونے اور ایک دوسرے سے جڑے نظاموں پر بڑے پیمانے پر اثرات مرتب ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ مشترکہ انتباہ نیشنل سیکیورٹی ایجنسی، ایف بی آئی، محکمہ توانائی، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) نے جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ سیمنز کے ایس-7 سیریز کے پروگرام ایبل لاجک کنٹرولرز کے خلاف ایک فعال خطرہ ہے۔
ایڈوائزری میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملہ آور اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی اداروں کے مطابق اس ٹیکنالوجی نے ایسے سائبر حملوں کے لیے ضروری تکنیکی مہارت اور وقت کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے، جس سے ہیکرز کے لیے صنعتی نظاموں میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
سی آئی ایس اے نے 30 جولائی کو بھی خبردار کیا تھا کہ پروگرام ایبل لاجک کنٹرولرز کو نشانہ بنانے والے ہیکرز کی سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے 22 جولائی کو جاری کی گئی ایک ایڈوائزری میں ایرانی وابستگی رکھنے والے ہیکرز پر سیمنز، راک ویل آٹومیشن اور شنائیڈر الیکٹرک کے تیار کردہ ایسے آلات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
دوسری جانب حالیہ پانی کے نظام پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے ایران کا کردار ابھی واضح نہیں ہے۔ امریکی حکام نے ان واقعات کو باضابطہ طور پر ایران سے منسلک کرنے سے گریز کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31 جولائی کو بھی کہا تھا کہ انہیں یقین نہیں کہ مینیسوٹا میں ہونے والے سائبر حملے میں ایران ملوث تھا۔
مینی سوٹا وہ پہلی امریکی ریاست تھی جہاں 26 اور 27 جولائی کو پانی سے متعلق کم از کم 30 سائبر حملوں کی ایک لہر رپورٹ ہوئی تھی۔ ان واقعات کے بعد امریکی حکام نے ملک بھر میں پانی اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے نظام کی سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے محتاط رہنے کی ہدایات مزید سخت کر دی ہیں۔