اتر پردیش میں مسلسل موسلا دھار بارش کی وجہ سے، گنگا، جمنا اور منداکنی جیسی بڑی ندیاں تیز ہیں، جس کی وجہ سے پریاگ راج، وارانسی (بنارس)، چترکوٹ، اور غازی پور سمیت کئی اضلاع میں سیلاب اور شدید پانی جمع ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے پریاگ راج، وارانسی، لکھنؤ، مراد آباد اور بریلی سمیت ریاست کے 18 اضلاع میں بھاری سے بہت زیادہ بارش کے لیے ‘ریڈ’ اور ‘اورینج’ الرٹ جاری کیا ہے۔
مختلف متاثرہ اضلاع کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلات درج ذیل ہیں: 1. چترکوٹ: 23 سالہ ریکارڈ ٹوٹا؛ منداکنی کی خوفناک شکل: دریائے منداکنی میں آنے والے تاریخی سیلاب نے اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کو جوڑنے والی متعدد رابطہ سڑکیں اور پل بہا دیے ہیں۔ آشرم اور بستیاں زیر آب: رام گھاٹ مکمل طور پر ڈوب گیا ہے۔ جگدگرو سوامی رام بھدراچاریہ کا تلسی پیٹھ (کنچ مندر)، جانکی کنڈ آشرم، اور سیارام کٹیر پانی سے گھرے ہوئے ہیں۔ چھتوں پر پناہ گاہ: نشیبی بستیوں (سیتا پور، ترونہا) میں گھروں کے اندر پانی کی سطح 5 سے 7 فٹ تک پہنچ گئی ہے، جس سے مکین چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ انتظامیہ نے این ڈی آر ایف اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ 2. پریاگ راج: ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر ہیں۔ گھاٹ اور بستیاں ڈوب گئیں: گنگا اور جمنا دونوں ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ سنگم کا علاقہ مکمل طور پر ڈوب گیا ہے، اور پانی لیٹ ہنومان جی مندر کے احاطے تک پہنچ گیا ہے، جہاں اب کشتیاں چل رہی ہیں۔
ریلیف کیمپ اور اسکول بندش: نشیبی علاقوں اور چھوٹا باغاڈا، سلوری اور سکھاسن جیسے علاقوں میں سڑکوں پر پانی کمر کی سطح تک بڑھ گیا ہے۔ ضلع کے 200 سے زائد دیہات اور 60 بستیاں متاثر ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں سکول بند کر دیے ہیں اور وہاں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں۔ 3. وارانسی (بنارس): تمام 84 گھاٹ ڈوب گئے۔ چھتوں پر آخری رسومات. گنگا کے پانی کی سطح خطرے کے نشان (71.26 میٹر) کو عبور کر کے 72.1 میٹر تک پہنچ گئی ہے۔ مانی کارنیکا اور ہریش چندر گھاٹوں کے ڈوب جانے کی وجہ سے آخری رسومات چھتوں اور تنگ گلیوں میں ادا کی جا رہی ہیں۔ چھتوں پر گنگا آرتی: دشاسوامیدھ گھاٹ پر مشہور گنگا آرتی کو اب چھتوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حفاظتی وجوہات کی بنا پر گنگا میں کشتی چلانے پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ دریائے ورونہ کے بڑھنے سے پانی شہری علاقوں میں بھی داخل ہو رہا ہے۔ غازی پور اور دیگر اضلاع میں صورتحال: غازی پور میں، گنگا کی بڑھتی ہوئی پانی کی سطح دریا کے کنارے والے علاقوں میں تیزی سے کٹاؤ کا سبب بن رہی ہے، اور نشیبی کھیتوں اور بستیوں میں پانی جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔ کشی نگر اور مرزا پور: کشی نگر میں دریائے نارائنی تیز ہے، جبکہ مرزا پور میں، ڈیموں سے پانی کے اخراج نے کئی سرکاری دفاتر، بینکوں (بشمول ایس بی آئی برانچ) اور رسائی سڑکوں کو سیلاب میں ڈال دیا ہے۔
: یوپی فلڈ: گنگا اور جمنا نے پریاگ راج میں اپنا غصہ دکھایا۔ انتظامی تیاری: چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور پی اے سی کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ متاثرہ افراد کے لیے خوراک، ادویات اور محفوظ پناہ گاہوں (فلڈ کیمپ) کا انتظام کیا گیا ہے۔ حکام کو زمین پر رہنے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر آپ ان متاثرہ علاقوں میں سے کسی میں ہیں یا وہاں سفر کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں تو براہ کرم مجھے بتائیں تاکہ میں آپ کو آفیشل ہیلپ لائن نمبرز، بند راستوں (ہائی ویز) یا ریلیف کیمپوں کی فہرست سے متعلق معلومات فراہم کر سکوں۔