سعودی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی بندرگاہ اور شہر کو نشانہ بناتے ہوئے بیلسٹک میزائل داغے تاہم میزائلوں کو سعودی فضائی دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا۔
حوثی باغیوں نے کل یعنی جمعرات کو سعودی عرب پر ایک اور بڑا حملہ کیا۔ سعودی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی باغیوں نے یانبو پورٹ اور شہر طائف کو نشانہ بناتے ہوئے چھ بیلسٹک میزائل داغے۔ سعودی فوج کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ بحیرہ احمر پر واقع سعودی عرب کی یانبو بندرگاہ اور جنوب مغربی شہر طائف کو نشانہ بنانے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے ان حملوں کا الزام پڑوسی ملک یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو قرار دیا۔ یمن میں حوثی باغی تیزی سے بحیرہ احمر کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔
حوثی باغیوں نے بعد میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبے جازان پر درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان پر سعودی دارالحکومت ریاض پر حملے سمیت سعودی عرب پر حملے کی کوشش کا الزام لگایا گیا ہے۔
حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان سعودی میجر جنرل ترکی المالکی نے یہ بیان دیاہے۔ ایک اہم بحیرہ احمر شپنگ راہداری کے قریب ہونے والی لڑائی نے عالمی خدشات کو جنم دیا ہے کیونکہ حوثی، ایرانی حمایت سے، دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کا محاصرہ کر رہے ہیں۔یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔
عرب دنیا کے غریب ترین ملک یمن کی صورت حال تشویشناک ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی دو طاقتوں ایران اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ لڑائی نے یمن کو چار سال کے نسبتاً امن کے بعد دوبارہ خانہ جنگی میں جھونک دیا ہے۔ اگرچہ سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں سے فوجی مدد مانگی ہے لیکن اس کے اہم اتحادی امریکہ نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور عندیہ دیا ہے کہ وہ اس تنازعے سے باہر رہے گا۔
سعودی عرب نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ مکہ معاہدے پر دستخط بھی کیے تھے لیکن ابھی تک کسی بھی ملک نے مکہ معاہدے کے تحت کوئی فعال تعاون فراہم نہیں کیا۔ انہوں نے دیگر ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس میں ملوث نہ ہوں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔