مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی جریدے اٹلانٹک نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ اب خطے میں غالب طاقت ایران ہے، نہ کہ امریکہ یا اسرائیل۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی برسوں تک ایران کو مشرق وسطی میں ایسے طاقت کے توازن کا سامنا رہا جو اس کے خلاف تھا۔ اس خطے میں ایک مخالف سپر پاور کا غلبہ، ایٹمی ہتھیار رکھنے والا اور فوجی برتری کا حامل اسرائیل، جبکہ مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم علاقائی ممالک موجود تھے جو اسٹریٹجک اور اقتصادی لحاظ سے امریکہ کے قریب تھے۔اٹلانٹک نے مزید لکھا کہ آج ایران بالکل مختلف صورتحال میں ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کا سامنا کیا،
ان کے جدید ترین ہتھیاروں کے شدید حملوں کا مقابلہ کیا اور نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اپنی پوزیشن مضبوط کی۔رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں ایران نے مشرق وسطی اور خلیج فارس میں طاقت کے ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
اب خطے میں غالب طاقت ایران ہے، نہ کہ امریکہ یا اسرائیل۔ جریدے نے کہا کہ پڑوسی ممالک اس نئی حقیقت کے مطابق اپنی پالیسیوں کو ترتیب دے رہے ہیں اور دور کی طاقتوں کو بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا۔جریدے نے یہ بھی لکھا کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے کی ضرورت نہیں۔ یہ تصور کہ ایک کمزور اور معاشی مشکلات کا شکار ایران بالآخر امریکی طاقت کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوگا اور اپنی تباہ حال معیشت کی بحالی کے لیے راستہ اختیار کرے گا، درست ثابت نہیں ہوا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسلامی جمہوری ایران شاید ہی کبھی گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں کمزور یا زیادہ غیر محفوظ نظر آیا ہو۔