لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے مسلسل سرخیوں میں ہے۔ اب تک تقریباً 65 سے 70 مقامات پر سڑک دھنسنے کے معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں سڑک دھنسنے کے بعد سے اس ایکسپریس وے پر ٹول ختم کر دیا گیا تھا۔
ٹول ختم ہونے کے بعد گاڑیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ اب اس معاملے میں ہوئی مبینہ بے ضابطگی کی سی بی آئی تحقیقات کے لیے مفاد عامہ کی عرضی پیر کو ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں داخل کی گئی ہے۔
کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے کی تعمیر میں سوال صرف مواد کے معیار تک محدود نہیں ہے، اب یہ بھی جانچ کی جائے گی کہ سڑک کا ڈیزائن جن تکنیکی معیارات کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، اسی کے مطابق کام ہوا ہے یا نہیں۔
تارکول والی سڑکوں کے ڈیزائن میں انڈین روڈ کانگریس کی ہدایات کے تحت آئی آئی ٹی پیو سافٹ ویئر کے ذریعہ سڑک کی تہوں پر گاڑیوں کے دباؤ کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ بھاری گاڑیوں کے وزن سے سڑک کی مختلف تہوں میں کتنا تناؤ اور بگاڑ پیدا ہوگا اور مٹی کے دھنسنے کا کتنا خطرہ ہے۔
آئی آئی ٹی پیو کو آئی آئی ٹی کھڑگپور کے ٹرانسپورٹ انجینئرنگ کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اس کا استعمال لچک دار سڑک کی تہوں کے تجزیے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس سافٹ ویئر میں سڑک کی تہوں کی موٹائی اور ان کی لچک سے متعلق خصوصیات کے ساتھ گاڑی کے پہیے کا وزن اور دباؤ جیسے اعداد و شمار دیے جاتے ہیں۔
سادہ زبان میں سمجھیں تو سڑک بنانے سے پہلے کمپیوٹر پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ بھاری ٹرک اور تجارتی گاڑیوں کے مسلسل گزرنے سے تہیں کتنا دباؤ برداشت کر پائیں گی۔
سڑک کے ڈیزائن کے دوران سافٹ ویئر میں کئی تکنیکی اعداد و شمار ڈالے جاتے ہیں۔ ان میں متوقع ٹریفک، وزن، مختلف تہوں کی موٹائی اور تہوں میں استعمال ہونے والے مواد کی خصوصیات شامل ہوتی ہیں۔
اس کے بعد کمپیوٹر ماڈل کے ذریعے سڑک کے ڈھانچے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یعنی ڈیزائن کی سطح پر ہی یہ سوال پہلے پوچھ لیا جاتا ہے کہ اتنی بھاری گاڑیوں کے اتنے برسوں تک گزرنے کے بعد تہیں مقررہ حد کے اندر رہیں گی یا نہیں۔
کانپور ایکسپریس وے کے معاملہ میں اہم جانچ یہ ہوگی کہ جس ڈیزائن کی بنیاد پر سڑک کو مضبوط سمجھا گیا تھا، کیا دھنسنے والی جگہ اسی ڈیزائن کے مطابق تعمیر ہوئی۔ ڈی پی آر اور ڈیزائن رپورٹ، آئی آئی ٹی پیو تجزیہ، سڑک کی حقیقی تہوں کی موٹائی، استعمال کیے گئے مواد کے ٹیسٹ کے نتائج، مٹی کی حالت، کمپیکشن ریکارڈ اور تعمیر کے دوران معیار کی نگرانی سے متعلق ٹیسٹوں کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اگر ڈیزائن میں مقررہ موٹائی اور مواد کے مطابق تعمیر ہوئی ہے، پھر بھی سڑک متاثر ہوئی ہے تو اس کے اسباب کی جانچ الگ سطح پر ہوگی۔
لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے کی تعمیر میں مبینہ دھاندلی کی عدالتی یا سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کی درخواست والی مفاد عامہ کی عرضی پیر کو ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں داخل کی گئی ہے۔ اس پر اسی ہفتے سماعت متوقع ہے۔ وکیل موتی لال یادو نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر یہ مفاد عامہ کی عرضی داخل کی ہے۔
عرضی گزار نے اس میں لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے کی تعمیر میں دھاندلی کیے جانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ عرضی گزار نے عرضی کے ساتھ ایکسپریس وے کے معاملے سے متعلق شائع شدہ خبروں کو بھی منسلک کیا ہے۔
اس کے علاوہ عرضی میں اس ایکسپریس وے پر عائد ٹول ٹیکس کو کافی زیادہ قرار دیتے ہوئے وسیع تر مفادِ عامہ میں اسے دیگر ایکسپریس وے کے مساوی مناسب شرح پر مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔