پھیپھڑوں کا کینسر اب صرف تمباکو نوشی کرنے والوں تک محدود نہیں رہا بلکہ غیر تمباکو نوش افراد بھی اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ بھارت میں بدلتے طرزِ زندگی اور ماحول میں موجود آلودہ عناصر کے مسلسل اثرات کے باعث اس بیماری کے نئے پہلو سامنے آ رہے ہیں۔ IARC کے GLOBOCAN 2022 کے اندازوں کے مطابق، بھارتی مردوں میں
پھیپھڑوں کا کینسر اہم کینسرز میں شامل ہے، جو ملک میں صحت کے نظام اور طرزِ زندگی سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجز کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
تمباکو کے استعمال کے علاوہ فضائی آلودگی بھی ایک اہم تشویش ہے۔ آلودہ ہوا میں موجود باریک ذرات، جیسے PM2.5، اور نقصان دہ گیسیں پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ گھر کے اندر اور باہر طویل عرصے تک فضائی آلودگی، خصوصاً باریک ذرات اور ٹریفک سے پیدا ہونے والے آلودہ عناصر کے رابطے میں رہنے سے پھیپھڑوں کے ٹشوز میں مسلسل سوزش اور DNA کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ IARC نے بیرونی فضائی آلودگی اور باریک ذرات کو کینسر کا سبب بننے والے عوامل میں شامل کیا ہے۔
M.O.C کینسر کیئر، پونے کی میڈیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر ریشما پورانک کے مطابق پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ اکثر کسی ایک وجہ کے بجائے کئی برسوں تک مختلف خطرناک عوامل کے سامنے آنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
بھارت میں تمباکو نوشی کینسر کی ایک بڑی وجہ ہے، تاہم فضائی آلودگی، کام کی جگہ پر نقصان دہ مادوں سے واسطہ اور طرزِ زندگی سے متعلق عوامل پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر غیر تمباکو نوش افراد کے معاملے میں۔
متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی بھی اہم
غذا اور جسمانی سرگرمی بھی کینسر کے خطرے کو متاثر کر سکتی ہے۔ زیادہ مقدار میں پروسیسڈ غذائیں، ضرورت سے زیادہ کیلوریز اور پھلوں، سبزیوں اور فائبر کی کمی موٹاپے اور میٹابولک مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
اگرچہ غذا کو پھیپھڑوں کے کینسر کی براہ راست اور بنیادی وجہ نہیں سمجھا جاتا، تاہم مناسب وزن برقرار رکھنے اور متوازن غذا کے استعمال سے کینسر سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔
اسی طرح غیر فعال طرزِ زندگی موٹاپے اور میٹابولک تبدیلیوں کے ذریعے بالواسطہ طور پر کینسر کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے، مطالعات میں زیادہ جسمانی سرگرمی اور پھیپھڑوں کے کینسر کے کم خطرے کے درمیان تعلق پایا گیا ہے، تاہم اس تعلق پر تمباکو نوشی اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
دائمی تناؤ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ماہرین؟
طویل عرصے تک رہنے والے دائمی تناؤ (Chronic Stress) اور پھیپھڑوں کے کینسر کے درمیان براہ راست تعلق ابھی تک قطعی طور پر ثابت نہیں ہوا ہے۔ تاہم مسلسل تناؤ کے باعث تمباکو نوشی، شراب نوشی، ضرورت سے زیادہ کھانے اور جسمانی سرگرمی میں کمی جیسی عادات پیدا ہو سکتی ہیں، جو مجموعی طور پر کینسر کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
ڈاکٹر ریشما پورانک کا کہنا ہے کہ پھیپھڑوں کے کینسر سے بچاؤ کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔ اس میں تمباکو سے مکمل پرہیز، جہاں تک ممکن ہو فضائی آلودگی سے بچاؤ، جسمانی طور پر فعال رہنا، وزن کو متوازن رکھنا اور سانس سے متعلق مسلسل رہنے والی علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق پھیپھڑوں کے کینسر سے بچاؤ کا مطلب زندگی میں صرف ایک تبدیلی لانا نہیں، بلکہ طویل عرصے تک ایسے متعدد خطرناک عوامل کو کم کرنا ہے جن سے بچنا ممکن ہے۔