’امریکہ میں بھی آزادی صحافت خطرے میں‘، ٹرمپ کے خلاف میڈیا اداروں کی مہم
About the author
Related Articles
-
اسپین میں رہائشی مکانات کا بحران، عوام نے سڑکوں پر نکل کر کیا احتجاجی مظاہرہ
-
راہل گاندھی الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر پہنچ کر عرضداشت دینا چاہتے ہیں، لیکن انھیں روکا جا رہا: پون کھیڑا انڈیا بلاک کے احتجاجی مظاہرہ کے درمیان آکاشوانی بھون احاطہ سے کانگریس رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے مودی حکومت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں سے الیکشن کمیشن کا دفتر صرف 100 میٹر دور ہے، پھر بھی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، انھیں آکاشوانی بھون میں روک دیا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، کے سی وینوگوپال، چرنجیت چنی، عمران پرتاپ گڑھی اور ہم سبھی لوگ آکاشوانی بھون احاطہ میں دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ راہل گاندھی الیکشن کمیشن دفتر پہنچ کر عرضداشت دینا چاہتے ہیں، لیکن انھیں روکا جا رہا ہے۔ راجدھانی میں جمہوریت کی یہی حالت ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ہم یہاں انتظار کرتے رہیں گے۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ ملک کی 64 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ آج ملک کی 64 فیصد آبادی راجدھانی میں سڑکوں پر اتر آئی ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انھیں کس طرح روکا جا رہا ہے۔‘‘ آکاشوانی بھون احاطہ میں درخت کے نیچے بیٹھے ہیں راہل اور پرینکا راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی آکاشوانی بھون احاطہ میں درخت کے نیچے بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔ وہ میڈیا اہلکاروں سے بات چیت کے دوران ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپنی بات بھی رکھ رہے ہیں۔ جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں، ان میں درخت کے نیچے راہل اور پرینکا کے علاوہ کانگریس کے سرکردہ لیڈران کے سی وینوگوپال اور چرنجیت سنگھ چنّی بھی بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی ’آکاش وانی بھون‘ کے احاطہ میں داخل لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی ’آکاش وانی‘ کے احاطہ میں داخل ہو گئے ہیں۔ کچھ ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جن میں پرینکا گاندھی ’گیانیش کمار استعفیٰ دو‘ کا نعرہ بلند کرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ کچھ کانگریس کارکنان بھی آکاش وانی احاطہ میں ہیں۔ کانگریس نے اپنی آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر بھی ایک پوسٹ میں بتایا ہے کہ وہ آکاش وانی بھون تک پہنچ چکے ہیں اور الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر سے محض 300 کلومیٹر دوری پر ہیں۔ گویا کہ انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر تک مارچ نکالنے پر بضد ہیں۔ راہل اور پرینکا کو پولیس حراست میں لیا، تھوڑی دیر بعد کر دیا رِہا لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی سمیت کچھ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو پولیس نے اس وقت حراست میں لے لیا، جب وہ پولیس گھیرا کو توڑ کر الیکشن کمیشن دفتر کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد انھیں چھوڑ بھی دیا گیا۔ یہ لیڈران الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف مارچ کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ راہل اور پرینکا آکاش وانی بھون میں داخل ہو رہے تھے، لیکن پولیس اہلکاروں نے انھیں اندر نہیں جانے دیا۔ ’تحفظ جمہوریت‘ مارچ کو نہیں بڑھنے دیا جا رہا آگے الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھ رہے انڈیا بلاک کے لیڈران کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا ہے اور بہت کوششوں کے بعد بھی انھیں سیکورٹی اہلکار آگے نہیں جانے دے رہے۔ بیریکیڈنگ کے ذریعہ راستے کو پوری طرح بند کر دیا گیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، پرینکا گاندھی، جیہ بچن سمیت کم و بیش 140 اراکین پارلیمنٹ اور دیگر لیڈران دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں اور ’گیانیش کمار تمھیں جانا ہوگا‘، ’ووٹ چوری گدی چھوڑ‘ جیسے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ ہم لڑتے رہیں گے اور جیتیں گے: کھڑگے ایک طرف انڈیا بلاک کے ’تحفظ جمہوریت‘ مارچ کو پولیس اہلکاروں نے الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھنے سے روک دیا ہے، اور دوسری طرف کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ’’ہم لڑتے رہیں گے اور جیتیں گے۔‘‘ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’آزادی کے بعد عوام کو ووٹ کا حق ملا تھا، جسے مودی حکومت ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار حکومت کی کٹھ پتلی ہے۔‘‘ کھڑگے کا کہنا ہے کہ گیانیش کمار وہی کرتے ہیں جو مودی اور شاہ کہتے ہیں۔ اس سے جمہوریت اور آئین ختم ہو جائے گا اور تاناشاہی قائم ہوگی۔ انھوں نے موجودہ حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’انڈیا اتحاد کے لوگ اس ناانصافی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہم لڑتے رہیں گے اور جیتیں گے۔‘‘ پولیس نے انڈیا بلاک کا مارچ روک دیا، راہل-پرینکا سمیت سبھی اراکین پارلیمنٹ دھرنے پر بیٹھے انڈیا بلاک کے ’تحفظ جمہوریت‘ مارچ کو دہلی پولیس نے روک دیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سمیت انڈیا بلاک کے کم و بیش 140 اراکین پارلیمنٹ الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کر رہے تھے، لیکن اسی درمیان سیکورٹی اہلکاروں نے نیتی آیوگ دفتر کے سامنے انھیں روک دیا۔ مارچ کو روکے جانے کے بعد راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت سبھی اراکین پارلیمنٹ دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔ انڈیا بلاک کا ’تحفظ جمہوریت‘ مارچ شروع، 140 اراکین پارلیمنٹ شامل انڈیا بلاک کے کم و بیش 140 اراکین پارلیمنٹ نے ’تحفظ جمہوریت‘ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف یہ اراکین پارلیمنٹ پا پیادہ الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس مارچ کے پیش نظر دہلی میں سخت سیکورٹی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس ’باڈی کیمرہ‘ لگا کر ڈیوٹی کر رہی ہے۔ نئی دہلی علاقہ کے ڈی سی پی سچن شرما بھی باڈی کیمرہ لگا کر ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ نئی دہلی ضلع میں نظامِ قانون بنائے رکھنے کے لیے 3000 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ مردوں کی 27 کمپنیاں اور خواتین کی 4 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ عام طور پر ایک پولیس کمپنی میں 100 سے 115 جوان ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں جمع ہوئے اپوزیشن لیڈران، الیکشن کمیشن دفتر کی طرف مارچ نکالنے کی تیاری ’تحفظ جمہوریت‘ کا بینر لے کر انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مارچ نکالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کے ’مکر دوار‘ پر جمع ہو گئے ہیں اور تھوڑی دیر میں مارچ شروع کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھیں گے۔ مکر دوار پر انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ضمنی انتخابات: اب تک نندی گرام میں 20 فیصد اور ریجی نگر میں 18 فیصد پولنگ مغربی بنگال کی 2 اسمبلی سیٹوں کے ساتھ ساتھ تمل ناڈو میں مدورانتکم اور دھاراپورم اسمبلی سیٹوں اور پڈوچیری میں تھٹنچاوڈی کے علاوہ آسام میں ناگاؤں لوک سبھا سیٹ پر ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نندی گرام میں اب تک 20 فیصد اور ریجی نگر میں 18 فیصد پولنگ ہو چکی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ’عام جنتا اُنین پارٹی‘ (اے جے یو پی) سربراہ اور رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کو ریجی نگر پولیس ان کے پارٹی دفتر سے اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ ہمایوں کبیر کو پولیس کے ذریعہ لے جائے جانے کی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔
-
ایران سے لین دین بند کرو، ورنہ امریکی پابندیوں کیلئے تیار رہو، واشنگٹن کی غیرملکی بینکوں کو وارننگ






