برطانوی حکومت کو مواصلاتی سکیورٹی کے حوالے سے اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب وزیر دفاع سمیت تین وزرا کے ذاتی…

برطانوی حکومت کو مواصلاتی سکیورٹی کے حوالے سے اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب وزیر دفاع سمیت تین وزرا کے ذاتی موبائل فون نمبرز ان کے ناموں کے ساتھ انٹرنیٹ پر دستیاب ہوگئے۔ اسی دوران وزیراعظم بھی وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف کا روپ دھارنے والے ایک جعل ساز سے پیغامات کا تبادلہ کرتے رہے۔
برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ، وزیر انصاف الیکس نوریس اور شمالی آئرلینڈ کے امور کے وزیر کرس برائنٹ کے ذاتی موبائل فون نمبرز ان کے ناموں کے ساتھ آن لائن سامنے آگئے۔
رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ کا نمبر بعد میں انٹرنیٹ سے ہٹا دیا گیا، جبکہ حکام نے دیگر دونوں وزرا کے نمبرز بھی ہٹانے کی کوشش کی۔
برطانوی وزیر دفاع سرکاری امور کے لیے سرکاری فون استعمال کرتے ہیں، تاہم ان کے ذاتی نمبر کے منظرعام پر آنے کے بعد اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی رابطے کی معلومات کی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم بھی جعل سازی کے ایک واقعے کا شکار ہوگئے۔ وزیراعظم نے ایک ایسے شخص کے ساتھ متعدد پیغامات کا تبادلہ کیا جسے وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز سمجھ رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق گفتگو کے دوران وزیراعظم کو شبہ ہوا کہ سامنے والا شخص حقیقی سوزی وائلز نہیں، جس کے بعد انہوں نے متعلقہ حکام کو اطلاع کردی۔
حکومت نے وزیراعظم اور جعل ساز کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر تبصرہ نہیں کیا جاتا۔
واقعے کی اطلاع واشنگٹن میں موجود برطانوی سفارتخانے نے وائٹ ہاؤس کو بھی دی۔ ذرائع کے مطابق پیغامات میں کوئی حساس یا اہم معلومات شامل نہیں تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ سیاسی شخصیات کی شناخت استعمال کرکے پیغامات اور فون کالز کے ذریعے جعل سازی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز بھی ماضی میں اسی نوعیت کی کوششوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی اعلیٰ برطانوی عہدیدار کو جعل سازی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2024 میں سابق برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون بھی ایسے شخص سے رابطے میں رہے تھے جو یوکرین کے سابق صدر پیٹرو پوروشینکو کا روپ دھارے ہوئے تھا۔
حالیہ واقعات کے بعد برطانوی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ذاتی رابطوں اور مواصلاتی نظام کی سکیورٹی پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
a
طبرطانوی وزیرِ دفاع کا فون نمبر انٹرنیٹ پر لیک، حکومت میں ہلچل مچ گئی
برطانوی حکومت کو مواصلاتی سکیورٹی کے حوالے سے اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا …
برطانوی حکومت کو مواصلاتی سکیورٹی کے حوالے سے اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب وزیر دفاع سمیت تین وزرا کے ذاتی موبائل فون نمبرز ان کے ناموں کے ساتھ انٹرنیٹ پر دستیاب ہوگئے۔ اسی دوران وزیراعظم بھی وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف کا روپ دھارنے والے ایک جعل ساز سے پیغامات کا تبادلہ کرتے رہے۔








