حیدرآباد: مغربی بنگال میں سوشل میڈیا پر ایک مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مغربی بنگال کی سیاست گرما گئی ہے۔ ترنمول کانگریس سے الگ ہو کر اپنی پارٹی بنا چکے ہمایوں کبیر اس میں نظر آرہے ہیں۔
اس تنازعہ کے درمیان، اسد الدین اویسی کی پارٹی، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے ہمایوں کبیر کی ‘عام جنتا اُنان پارٹی’ (اے جے یو پی) کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اویسی کی پارٹی نے کہا کہ وہ مغربی بنگال کے انتخابات اکیلے لڑے گی اور اب وہ کسی دوسری پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات سے عین قبل دونوں پارٹیوں کے درمیان جاری اس رسہ کشی نے میڈیا کی خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔
اویسی کی پارٹی کی طرف سے یہ اعلان کبیر کے بیانات اور انکشافات کے تناظر میں آیا ہے۔ ایم آئی ایم کا کہنا ہے کہ یہ تبصرے مسلمانوں کی ایمانداری سے متعلق تشویش پیدا کر رہے ہیں۔
ایک سخت بیان میں، پارٹی نے زور دے کر کہا کہ “پارٹی کسی ایسے بیان سے نہیں جڑ سکتی جس میں مسلمانوں کی ایمانداری پر سوال اٹھایا گیا ہو۔” اس کے ساتھ ہی، پارٹی نے باضابطہ طور پر ہمایوں کبیر کی ‘عام جنتا اُنان پارٹی’ کے ساتھ اپنے اتحاد کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔
اس موقع پر اے آئی ایم آئی ایم نے مغربی بنگال میں مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی پسماندگی کے مسئلے کو بھی نمایاں طور پر اجاگر کیا۔ پارٹی نے استدلال کیا کہ مسلم کمیونٹی سماج کا غریب ترین، سب سے زیادہ نظر انداز، اور سب سے زیادہ مظلوم طبقہ بنی ہوئی ہے۔
اس موقع پر مسلمانوں کی موجودہ حالت کے لیے ایم آئی ایم نے آل انڈیا ترنمول کانگریس اور سابقہ حکومت پر تنقید کی۔
ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے کہا: “ہمایوں کبیر کے انکشافات نے بے نقاب کر دیا ہے کہ بنگال کے مسلمان واقعی کتنے کمزور ہیں۔
” اے آئی ایم آئی ایم کسی ایسے بیان سے نہیں جڑ سکتی جس سے مسلمانوں کی ایمانداری پر شبہ ظاہر کیا گیا ہو۔ آج سے اے آئی ایم آئی ایم نے کبیر کی پارٹی سے اپنا اتحاد واپس لے لیا ہے۔
پارٹی نے مزید کہا کہ بنگال کے مسلمان سب سے غریب، سب سے زیادہ نظر انداز اور مظلوم برادریوں میں سے ایک ہیں۔ کئی دہائیوں کی سیکولر حکمرانی کے باوجود ان کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔
کسی بھی ریاست میں الیکشن لڑنے کے حوالے سے اے آئی ایم آئی ایم کی پالیسی اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پسماندہ طبقوں کو ایک آزاد سیاسی آواز حاصل ہو۔
ہمایوں کبیر کو مرشد آباد میں بابری مسجد کی تعمیر کی متنازعہ تجویز کے بعد ترنمول کانگریس سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد، انہوں نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات لڑنے کے لیے ‘عام جنتا اننان پارٹی’ بنائی۔
مغربی بنگال میں 294 رکنی قانون ساز اسمبلی کے لیے ووٹنگ 23 اپریل اور 29 اپریل کو دو مراحل میں ہوگی، جب کہ ووٹوں کی گنتی چار مئی کو ہوگی۔