ناشتہ بچوں کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صلاحیتوں اور نفسیاتی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دن کا آغاز صحت بخش ناشتے سے کرنا نہ صرف جسمانی توانائی کے لیے ضروری ہے بلکہ بچوں کی ذہنی نشوونما اور تعلیمی کارکردگی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے بچے صبح کے وقت ناشتہ کیے بغیر ہی اسکول چلے جاتے ہیں، جو بعد میں مختلف جسمانی اور نفسیاتی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسکول جانے والے بچوں میں ناشتے سے گریز کرنے کی عادت عام ہے۔ بعض بچے ناشتے سے انکار کر دیتے ہیں جبکہ کچھ جلدی کی وجہ سے بغیر کچھ کھائے گھر سے نکل جاتے ہیں۔ یہ معمول ان کی توجہ، مزاج اور مجموعی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ادارہ ہیلتھ لائن کے مطابق بچوں کے لیے صرف یہ اہم نہیں کہ وہ کیا کھاتے ہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کہاں اور کس ماحول میں ناشتہ کرتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ناشتے کو مکمل طور پر چھوڑ دینا یا روزانہ گھر کے بجائے بازار کا ناشتہ کرنا نوعمر بچوں میں نفسیاتی اور رویوں سے متعلق مسائل کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بچے ناشتہ کیے بغیر اسکول جاتے ہیں، وہ اکثر سستی، تھکن اور چڑچڑے پن کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کلاس میں ان کی توجہ کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث پڑھائی اور تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
اس حوالے سے ہسپانوی نیشنل ہیلتھ سروے میں 4 سے 14 سال کی عمر کے 3 ہزار 772 بچوں کے والدین اور سرپرستوں سے معلومات حاصل کی گئیں۔ اس تحقیق میں ناشتے کی عادات کے ساتھ بچوں کی نفسیاتی صحت، خود اعتمادی، مزاج اور بے چینی سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق گھر سے باہر کیا جانے والا ناشتہ بھی بچوں کے لیے تقریباً اتنا ہی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے جتنا ناشتے کو مکمل طور پر چھوڑ دینا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن اور گھر میں تیار کیا گیا ناشتہ بچوں کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صلاحیتوں اور نفسیاتی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائیت سے بھرپور ناشتہ بچوں کی یادداشت، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت میں بہتری لاتا ہے، جس کے مثبت اثرات اسکول میں ان کی کارکردگی پر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر صبح کے وقت مصروفیت زیادہ ہو تو ناشتے کی تیاری رات ہی کو کر لی جائے، لیکن بچوں کو کسی بھی صورت ناشتہ کیے بغیر اسکول نہ بھیجا جائے تاکہ وہ پورے دن بھرپور توانائی اور بہتر ذہنی کیفیت کے ساتھ اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔