لنکن: برطانیہ کے تاریخی شہر میں ماہرین آثار قدیمہ نے زمین کی گہرائیوں سے تقریباً ایک ہزار برس قدیم جذام کے اسپتال کی باقیات دریافت کر لی ہیں۔
یہ اہم انکشاف ایک تفریحی مقام کے نیچے جاری کھدائی کے دوران عمل میں آیا ہے جو کہ ایک وسیع تر تحقیقی منصوبے کا حصہ ہے۔
ماہرین کی ٹیم نے ہاسپٹل آف دی ہولی انوسینٹس کے نام سے جانے جانے والے اس قدیم مرکز کی دیواروں کے آثار ڈھونڈ نکالے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ اسپتال گیارہویں صدی کے آخر یا بارہویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا جس نے 5 صدیوں تک انسانی خدمت کی۔
تاریخی دستاویزات اور شواہد کی روشنی میں ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس طبی مرکز میں ایک وقت میں 10 سے 20 مریضوں کو رکھنے کی گنجائش موجود تھی۔ قرونِ وسطیٰ کے دور میں جذام ایک انتہائی مہلک اور خوفناک بیماری سمجھی جاتی تھی جس کے شکار افراد کو سماج سے الگ رکھا جاتا تھا۔
اسپتال کی یہ باقیات انگلینڈ کی قدیم ترین طبی عمارتوں میں سے ایک کی نشاندہی کرتی ہیں جو اس دور کے طبی نظام پر روشنی ڈالتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت قرونِ وسطیٰ میں بیماریوں سے متاثرہ افراد کی دیکھ بھال اور ان کے رہن سہن کے طریقہ کار کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی۔
3 سالہ ہڈن ہسٹریز ان ارتھڈ منصوبے کے تحت کی جانے والی یہ کھدائی تاریخ کے نئے پہلو سامنے لا رہی ہے۔ اس اہم دریافت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں بھی متاثرہ افراد کے لیے طبی سہولیات فراہم کرنے کا منظم بندوبست موجود تھا جو انسانی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
آثار قدیمہ کے ماہرین نے مزید کہا کہ اس مقام سے ملنے والے شواہد سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت کے معاشرے میں جذام کے مریضوں کے لیے کس قسم کے خصوصی انتظامات کیے جاتے تھے۔ یہ دریافت برطانیہ کی تاریخ کو سمجھنے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔