ممبئی/ گوا: بالی ووڈ کے مایہ ناز اور ورسٹائل اداکار نانا پاٹیکر کا 75 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ گوا میں واقع اپنے گھر پر بے ہوش پائے گئے۔
بعد ازاں انہیں منی پال اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں انہیں بچانے کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار نے یہ جانکاری دی۔
گوا کے منی پال ہسپتال میں آنکولوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیف، ڈاکٹر شیکھر سالکر نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ “مشہور اداکار نانا پاٹیکر کا آج صبح 5:20 بجے ان کے گھر پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ اسپتال لائے جانے کے بعد 45 منٹ تک مسلسل سی پی آر دینے کے باوجود ان کے جسم میں کوئی حرکت نہیں ہوئی۔ ایک میڈیکو لیگل کیس درج کر لیا گیا ہے، اور پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا۔”
نانا پاٹیکر کا فلمی سفر
نانا پاٹیکر بالی ووڈ اور مراٹھی سنیما کے ایک بے حد مقبول اور بااثر اداکار تھے۔ انہوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز سال 1978 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘گمن’ سے کیا اور آہستہ آہستہ ‘سلام بمبئی!’ اور ‘پرندہ’ جیسی فلموں کے ذریعے اپنا ایک بڑا نام بنایا۔ فلم ‘پرندہ’ میں ان کی شاندار اداکاری کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا اور یہ فلم ان کے کریئر میں ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہوئی۔ ان کی جاندار اداکاری اور منفرد ڈائیلاگ ڈلیوری نے انہیں فلمی دنیا میں ایک الگ پہچان دلائی۔
نانا پاٹے کر کا مراٹھی سنیما اور تھیٹر سے بھی گہرا تعلق تھا۔ انہوں نے سال 1991 میں ریلیز ہونے والی فلم ’پریہار: دی فائنل اٹیک‘ سے فلم سازی کی دنیا میں بھی قدم رکھا، جس کی انہوں نے ہدایت کاری بھی کی اور اس میں مرکزی کردار بھی نبھایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ، وہ ہندی اور مراٹھی دونوں زبانوں کے پراجیکٹس میں مسلسل کام کرتے رہے۔
ان کی چند یادگار اور شہرہ آفاق فلموں میں پرندہ، کرانتی ویر، ترنگا، پریہار، انگار، خاموشی، اب تک چھپن اور ویلکم جیسی فلمیں قابل ذکر ہیں۔ ان فلموں میں کہے گئے ان کے ڈائیلاگز سبھی خاص و عام کی زبان زد ہو گئے۔
اگرچہ وہ اپنے سنجیدہ اور جذباتی کرداروں کے لیے سب سے زیادہ مشہور تھے، لیکن نانا نے ‘ویلکم’ فلم میں اپنا مزاحیہ انداز بھی دکھایا۔ ان کا نبھایا ہوا ‘ادے شیٹی’ کا کردار بے حد مقبول ہوا اور اس نے نئی نسل کے ناظرین کو ان کے فن سے روشناس کروایا۔ سنیما کی دنیا میں نانا کی خدمات کو کئی بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔ انہوں نے تین نیشنل فلم ایوارڈز جیتے اور سنیما اور آرٹس میں نمایاں خدمات کے لیے انہیں سال 2013 میں پدم شری ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔
فلموں سے ہٹ کر، نانا پاٹے کر اپنی سماجی خدمات اور فلاحی کاموں کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ وہ ‘نام فاؤنڈیشن’ کے ذریعے زرعی بحران سے متاثرہ کسانوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کی کوششوں سے وابستہ تھے، جس کی بنیاد انہوں نے اداکار مکرند اناسپورے کے ساتھ مل کر رکھی تھی۔ بھارتی سنیما کا ایک انتہائی معروف چہرہ ہونے کے باوجود، نانا نے اپنی ذاتی زندگی کو بڑے پیمانے پر میڈیا کی چکاچوند سے دور رکھا۔ کئی دہائیوں پر محیط ان کا فلمی سفر یادگار کرداروں، جاندار اداکاری اور ایک منفرد انداز کا امین تھا، جس نے انہیں اپنے ہم عصر اداکاروں میں سب سے منفرد اور ممتاز بنایا۔
فلموں میں نبھائے گئے کرداروں کی بدولت وہ ہمیشہ اپنے مداحوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ فلمی دنیا کی اہم شخصیات اور سیاسی قائدین کی جانب سے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔