یروشلم: حکام نے بتایا ہے کہ جمعہ کے روز اردن کے ایک گرجا گھر میں جنازے کی تقریب کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے۔
یہ فائرنگ کرک میں واقع ایک یونانی آرتھوڈوکس گرجا گھر میں ہوئی، جو دارالحکومت عمان سے تقریباً 180 کلومیٹر (110 میل) جنوب میں واقع ہے۔
اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دو مسلح افراد کو دیکھا جا سکتا ہے، جن میں سے دونوں کے ہاتھوں میں پستول ہے۔ وہ گرجا گھر کی جانب بڑھتے ہیں اور فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔
اس کے بعد ایک تیسرا شخص، جس کے پاس نیم خودکار (سیمی آٹو میٹک) رائفل ہے، وہاں پہنچتا ہے اور فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔ پھر ان تینوں کو گرجا گھر کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
عینی شاہدین کی بنائی گئی ویڈیو فوٹیج میں گرجا گھر کے فرش پر ٹوٹے ہوئے شیشے اور خون کے دھبے دکھائی دے رہے ہیں۔
گرجا گھر کے اندر موجود درغام ہلاسا نے بتایا کہ جنازے کی تقریب شروع ہونے کے محض 15 منٹ بعد ہی شدید فائرنگ شروع ہو گئی، جس سے وہاں موجود لوگ ہر طرف بھاگنے لگے۔ ہلاسا نے کہا، “یہ واقعی ایک انتہائی خوفناک صورتحال تھی، جس میں شدید فائرنگ ہو رہی تھی۔”
اگرچہ انہوں نے خود ان مسلح افراد کو نہیں دیکھا، لیکن انہوں نے بتایا کہ دیگر لوگوں نے چار حملہ آوروں کو دیکھنے کی اطلاع دی۔ حملہ آوروں کی تعداد سے متعلق اردن کے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ “نامعلوم حملہ آوروں” نے کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا حملہ آوروں میں سے کسی کو گرفتار کیا گیا ہے یا ہلاک کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ “واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔” اردن کی ‘پیٹرا نیوز ایجنسی’ کے مطابق، ملک میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
سن 2016 میں، کرک میں مسلح افراد نے پولیس پر کئی حملے کیے تھے، جن میں سیاحوں میں مقبول ایک ‘صلیبی قلعے’ پر کیا گیا حملہ بھی شامل تھا۔ ان حملوں میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ ایک طویل محاصرے کے بعد، اردن کی سیکیورٹی فورسز نے ان حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔
اردن کے وزیر صحت، ابراہیم البدور نے بتایا کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ شاہ عبداللہ دوم نے ‘ایکس’ پر اعلان کیا کہ، اردن “کرک کو نشانہ بنانے والے اس دہشت گردانہ واقعے کا انتہائی سخت جواب دے گا۔” انہوں نے مہلوکین کے لواحقین سے “گہری تعزیت” کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
جمعہ کی شام کرک میں ایک سکیورٹی اجلاس کے دوران، اردن کے وزیر اعظم جعفر حسن نے کہا کہ یہ حملہ ایک دہشت گردانہ نظریے اور اندھی انتہا پسندی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس واقعے کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے گی اور ایسی انتہا پسندی کو فروغ دینے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں کی پورے خطے میں مذمت کی گئی، جن میں لبنان، شام، مصر اور عمان شامل ہیں۔
قاہرہ میں قائم سنی مسلم دنیا کے ممتاز مذہبی ادارے ‘الازہر’ کے سربراہ احمد الطیب نے جمعہ کو ہونے والی فائرنگ میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور اس واقعے کو ایک “انتہائی گھناؤنا دہشت گردانہ حملہ” قرار دیا۔
عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے اپنے اردنی ہم منصب سے اس ضمن میں بات چیت کی۔ فواد حسین کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق، انہوں نے “دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن کے ساتھ عراق کی یکجہتی” کا اعادہ کیا۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے بتایا کہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور اسے “انتہائی گھناؤنا” قرار دیا ہے۔ “سیکرٹری جنرل نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اس حملے کے ذمہ دار تمام افراد کی نشاندہی کی جائے اور انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے۔”