ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی حملے کی ہمیشہ قیمت چکانی پڑتی ہے اور یہ حقیقت آج بھی برقرار ہے۔
ناکام امریکی صدر نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ مذاکرات کے اصولوں کے پابند نہیں ہیں، ابراہیم عزیزی
انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس حقیقت سے باخوبی آگاہ ہیں۔
ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ یوکرین کو بھی شاید جلد احساس ہو جائے گا کہ ایران اپنے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا جواب دیے بغیر نہیں رہتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف غلط اندازے لگانے والوں کی فہرست مسلسل طویل ہوتی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے ایک تجارتی بحری جہاز پر بحیرۂ کیسپین میں یوکرین کی جانب سے مبینہ حملہ کیا گیا۔
اس صورتِ حال نے یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازعات کے باہمی تعلق اور ممکنہ نئے محاذ کے خدشات کو جنم دے دیا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی بحری جہاز پر یوکرین کے حملے کی مذمت کی ہے اور یوکرینی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
اس حوالے سے اس سے قبل یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا تھا کہ کیسپین سی میں مبینہ طور پر ہتھیار ایران لے جانے والے روسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔