واشنگٹن کے دفترِ طبی معائنہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق 71 سالہ ریپبلکن سینیٹر کی موت شریانِ اعظم (آورٹا) کے پھٹنے سے ہوئی، جس کی بنیادی وجہ قلبی و عروقی بیماری بتائی گئی ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن کے دفتر طبی معائنہ نے امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے 71 سالہ ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی موت کی ابتدائی وجہ جاری کر دی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لنڈسی گراہم کی موت شریانِ اعظم (آورٹا) کے پھٹنے کے باعث ہوئی، جو ایتھروسکلروٹک قلبی و عروقی بیماری کا نتیجہ تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ ابتدائی نتائج سینیٹر کے دفتر کی جانب سے بھی جاری کیے گئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ان کی وفات آورٹا کے پھٹنے سے ہوئی، جس کی بنیادی وجہ دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماری تھی۔
اس سے قبل سینیٹر کے دفتر نے صرف یہ اطلاع دی تھی کہ وہ اچانک عارضہ لاحق ہونے کے بعد انتقال کر گئے ہیں، تاہم اس وقت موت کی وجہ سے متعلق کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔