لکھی سرائے، بہار: ریاست بہار کے لکھی سرائے ضلع میں مشہور اشوک دھام مندر کے باہر بھگدڑ مچنے سے کم از کم سات عقیدت مندوں کی موت ہو گئی۔
واقعے میں 12 سے زائد افراد زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ متاثرین میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ (ریاست بہار میں کئی بار بھگدڑ کے واقعات پیش آ چکے ہیں)
مبینہ طور پر بھگدڑ اس وقت شروع ہوئی جب بجلی کا ایک کھمبا جو سپلائی کیبل لے کر جا رہا تھا ٹوٹ گیا اور زائرین پر گرا، جس سے عقیدت مندوں میں افواہیں پھیل گئیں کہ لوگ اس کی وجہ سے بجلی کا کرنٹ لگ کر ہلاک ہو رہے ہیں۔ ہجوم میں خوف و ہراس پھیل گیا اور عقیدت مندوں نے افراتفری اور ہلچل مچادی۔
ساون مہینے کے تیسرے پیر کو شیو مندر میں غیر معمولی بھیڑ
یہ واقعہ صبح تقریباً 6:40 بجے پیش آیا جب یاتریوں کی دو ٹرینیں لکھی سرائے ریلوے اسٹیشن پر پہنچیں جس نے ساون (شراون) کے مبینہ طور پر مقدس مہینے کے تیسرے پیر کے موقع پر شیو مندر میں غیر معمولی بھیڑ میں اضافہ کیا۔
سب ڈویژنل پولیس آفیسر کا بیان
لکھی سرائے کے سب ڈویژنل پولیس آفیسر (ایس ڈی پی او) شیوم کمار نے ای ٹی وی بھرت کو بتایا، “یہ واقعہ مندر کی طرف جانے والی کچے (مٹی کے) راستے پر پیش آیا۔ ایک سیمنٹ کا بجلی کا کھمبا اُس جگہ کے قریب گر گیا جہاں خواتین مندر جانے کے لیے قطار میں کھڑی تھیں۔ اس سے عقیدت مندوں میں خوف و ہراس پھیل گیا”۔
اشوک دھام مندر میں کیوں مچی بھگدڑ؟
مقامی لوگوں نے بتایا کہ رات کے وقت اس راستے پر بجلی کا کھمبا تار سمیت گر گیا تھا۔ زائرین کے درمیان یہ افواہ پھیل گئی کہ ایک کھمبے میں کرنٹ آ گیا ہے۔ اس سے لوگ گھبرا گئے اور بچنے کی کوشش میں مختلف سمتوں میں بھاگنے لگے۔
ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو 4 لاکھ کا اعلان
لکھی سرائے میں بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 50 لاکھ روپے ملیں گے۔ ہر ایک کو 4 لاکھ روپے معاوضہ۔ وزیر اعلیٰ سمرت چودھری نے اس کا اعلان کیا ہے۔
2019 میں بھی ہوئی تھی بھگدڑ
2019 میں بھی اسی مندر میں بھگدڑ مچ گئی تھی۔ افواہیں پھیل گئیں تھی کہ پولیس لاٹھی چارج کر رہی ہے۔ اس بھگدڑ میں عقیدت مند بھاگنے لگے۔ بھگدڑ میں ایک عقیدت مند کی موت ہوگئی تھی۔
زخمیوں کو فوری طبی علاج ضروری: راجیو رنجن
لکھی سرائے کے اشوک دھام میں بھگدڑ کے بارے میں جے ڈی یو لیڈر راجیو رنجن نے کہا کہ ضلع انتظامیہ زخمیوں کی بہترین طبی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے انتظامات کر رہی ہے۔ پورے واقعہ کی تحقیقات جاری ہے۔ اس کے بعد ہی تبصرہ کرنا مناسب ہوگا۔
زائرین ایک دوسرے کے نیچے دب گئے
قبل ازیں کی تفصیلات کے مطابق مندر کے احاطے میں بھگدڑ مچ گئی، جس میں کئی زائرین پھنس گئے اور ایک دوسرے کے نیچے دب گئے۔ مقامی لوگوں اور دیگر زائرین نے فوراً ہجوم میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامی افسران موقع پر پہنچ گئے۔ بچاؤ کا کام شروع کیا گیا اور زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی اسپتالوں میں پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔
ڈی ایم شیلیندر کمار نے کیا کہا
ڈی ایم شیلیندر کمار کے مطابق، اب تک کم از کم سات زائرین کی موت ہوئی ہے، جب کہ کئی زائرین زخمی ہیں۔ بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تمام خواتین تھیں۔ فی الحال مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہاں ساون میں جمع ہوتے ہیں زائرین
اشوک دھام مندر کو شری اندر دمنیشور مہادیو مندر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہاں ایک بہت بڑا شیو لنگ ہے، جو کھدائی کے دوران ملا تھا۔ خاص طور پر ساون کے مقدس مہینے کے دوران مندر میں بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں۔