کیلیفورنیا: اسپیس ایکس کا ناکارہ راکٹ چاند سے ٹکرانے والا ہے، جس کے نتیجے میں چاند پر ایک نیا گڑھا بننے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خلائی تحقیق سے وابستہ ماہرین کی نظریں اس غیر معمولی واقعے پر مرکوز ہیں جس میں اسپیس ایکس کا ایک ناکارہ راکٹ بدھ کے روز چاند کی سطح سے ٹکرانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
سائنسی ماہرین کے مطابق اس تصادم کی شدت 3 ٹن سے زیادہ ٹی این ٹی کے دھماکے کے برابر ہو سکتی ہے، جس سے چاند کی سطح پر نمایاں تبدیلی رونما ہونے کا امکان ہے۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ راکٹ کے تصادم سے چاند پر ایک نیا گڑھا وجود میں آئے گا، جبکہ گرد و غبار اور چٹانی ذرات کا ایک بڑا بادل کئی میل تک خلا میں بلند ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سائنس دان اور فلکیات کے شوقین اس منظر کا مشاہدہ کرنے کے لیے بے حد دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ راکٹ گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے خلا میں بے مقصد گردش کر رہا ہے۔ اس سے قبل اسے 2 قمری لینڈرز کو خلا میں بھیجنے کے مشن کے دوران استعمال کیا گیا تھا، تاہم مشن مکمل ہونے کے بعد اس کا بالائی حصہ خلا ہی میں رہ گیا۔
خلائی نگرانی کے ماہر بل گرے کے مطابق راکٹ کا بالائی حصہ تقریباً 8 ہزار 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن کریٹر کے قریب جا ٹکرائے گا۔
یہ رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً 7 گنا زیادہ بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث تصادم کی شدت بھی غیر معمولی ہوگی۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس واقعے سے زمین یا انسانی آبادی کو کوئی براہِ راست خطرہ لاحق نہیں، تاہم یہ خلائی ملبے کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے۔
سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں زمین کے مدار اور اس سے باہر بڑھتا ہوا خلائی کچرا بین الاقوامی خلائی مشنز کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔