برلن: اگر آپ روزانہ گھنٹوں انٹرنیٹ پر وقت گزارتے ہیں تو یہ عادت صرف آپ کا وقت ہی ضائع نہیں کرتی بلکہ آپ کی ذہنی کیفیت، رویوں اور شخصیت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
جرمنی میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کا حد سے زیادہ استعمال تناؤ، چڑچڑے پن اور روزمرہ کی اہم سرگرمیوں سے غفلت جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
جرمنی کی ڈیوسبرگ-ایسن یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں تقریباً نو سو افراد کو شامل کیا گیا، جن کی آن لائن عادات، انٹرنیٹ پر گزارے جانے والے وقت اور اس کے ذہنی و سماجی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے دوران شرکاء کو انٹرنیٹ استعمال کے دورانیے کی بنیاد پر تین مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ زیادہ اور کم استعمال کرنے والوں کے رویوں میں کیا فرق پایا جاتا ہے۔
محققین نے تمام شرکاء سے مسلسل دو ہفتوں تک ہر شام ایک سوالنامہ پُر کروایا، جس میں ان سے اس دن کے مزاج، ذہنی دباؤ، انٹرنیٹ استعمال کرنے کی خواہش، آن لائن گزارے گئے وقت اور اس کے نتیجے میں دیگر روزمرہ سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد انٹرنیٹ پر ضرورت سے زیادہ وقت گزارتے ہیں، ان میں چڑچڑا پن، ذہنی دباؤ، بے چینی اور زندگی کے دیگر اہم معاملات کو نظر انداز کرنے کا رجحان نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے افراد اکثر اپنے کام، تعلیم، خاندان اور سماجی تعلقات پر بھی کم توجہ دیتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بہت سے افراد انٹرنیٹ کو ذہنی سکون، تفریح یا خوشی حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جس کے باعث وہ اس کے استعمال کے عادی ہوتے جاتے ہیں۔ یہی بڑھتی ہوئی وابستگی بعد ازاں انٹرنیٹ کے حد سے زیادہ استعمال اور اس سے جڑے منفی نفسیاتی اثرات کا سبب بنتی ہے۔
محققین کے مطابق نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ آن لائن سرگرمیاں انسان کی روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ اگر انٹرنیٹ کا استعمال اعتدال میں نہ رکھا جائے تو یہ ذہنی صحت، شخصیت، سماجی روابط اور مجموعی معیارِ زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ تحقیق کے نتائج بین الاقوامی طبی جریدے پلوس ون (PLOS ONE) میں شائع ہوئے ہیں، جہاں محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انٹرنیٹ کا ضرورت سے زیادہ استعمال مستقبل میں ذہنی صحت کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے، جس پر مزید تحقیق اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے۔